لباس — Page 94
96 میاں بیوی کے حقوق و فرائض ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ کم ہی رہیں۔نہایت ہی صبر وشکر کے ساتھ وقت گزارا۔ایک دفعہ صرف اتنا لکھا کہ افسوس ہے اپنی بیماری کی وجہ سے پردیس میں میں آپ کی کوئی خدمت نہیں کر رہی۔مجھ سے انتہائی احترام کا سلوک کرتی تھیں۔میاں بیوی میں محبت تو ہوتی ہے لیکن ان میں ادب کا مادہ انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔52 سالہ ازدواجی زندگی میں کبھی کسی قسم کی درشتی اور ہتک آمیز الفاظ نہیں کہے۔اس لحاظ سے وہ مثالی بیوی تھیں۔(خلاصہ ایک نیک بی بی کی یاد میں ) والدہ کا مثالی کردار : خاکسار کے امی جان اور ابا جان مرحومین ( محترمہ مریم صدیقہ صاحبہ اور محترم چوہدری نذیر احمد سیالکوٹی صاحب) کا آپس میں رشتہ ازدواج بھی مثالی تھا۔میں نے امی جان کو ابا جان کی بہت خدمت کرتے دیکھا۔اور بہت چھوٹے چھوٹے امور میں بھی خاوند کی اطاعت اور خدمت امی جان کا شعار تھا۔اور ہر وقت اس میں کوشاں رہتیں کہ میری وجہ سے میرے میاں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔حتی کہ گھر میں بھر دیں کریلے (جو ابا جان مرحوم کو بہت پسند تھے ) پکتے تو ابا جان کو کھانے میں پیش کرتے وقت اُوپر سے دھاگہ اُتار دیتیں۔بسا اوقات میں مذاق سے امی مرحومہ کو کہتا کہ امی جان! ہمیں دیئے گئے کریلوں کا بھی تو دھاگہ اُتار دیا کریں۔۔۔اس وقت آپ اُتار تو دیتیں لیکن ساتھ ہی فرماتیں کہ دیکھو! وہ آپ کے ابو ہیں اور میرے میاں ( سرتاج کہا کرتی تھیں ) اُن کی سہولیات کا خیال رکھنا میرے فرائض میں شامل ہے۔کبھی اپنے میاں کا راز فاش نہ کرتیں۔اُن کی عزت و توقیر کے مقابل پر ایک مضبوط دیوار بن جاتیں اور کبھی کوئی بات اُن کے خلاف سننا گوارا نہ کرتیں۔(ضمیمہ میرے محسن والدین از حنیف احمد محمود صفحه (5)