لباس

by Other Authors

Page 70 of 124

لباس — Page 70

72 میاں بیوی کے حقوق و فرائض نہیں اٹھا سکیں گے۔یا بارش کی وجہ سے کیچڑ ہورہا ہے آپ جلدی سے اندر چلے جائیں سامان ہم خود سمیٹ لیں گی۔مگر آپ ہیں کہ بالکل نہیں مانتے اور فرماتے ہیں تمہیں اکیلے تکلیف ہوگی اور برابر ساتھ ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔خود بیوی کے ایک ایک عزیز کا پوچھیں گے۔ان کی خوشی و غمی میں پورے اہتمام اور انہماک سے حصہ لیں گے۔بیویوں کے ضرورتمند عزیزوں کا اتنا خیال کہ بعض اوقات بیویوں کو اس بات پر ناراضگی کا اظہار کرتے کہ میرے فلاں عزیز کو فلاں تکلیف تھی تم نے مجھے کیوں نہ بتایا( بیوی کے عزیز کو آپ نے کبھی بیوی کا عزیز نہیں سمجھا اور نہ ہی کبھی یہ فرمایا کہ تمہارے فلاں عزیز بلکہ ہمیشہ میرا فلاں عزیز فرما یا کرتے تھے ) اور پھر ان کی ضروریات کو اس طرح پورا کرتے ہیں کہ بڑے سے بڑا فیاض بھی حضور کی فیاضی اور دریا دلی کے سامنے بیچ ہو کر رہ جاتا ہے۔اس قدر محبت و پیار اور فیاضانہ سلوک کرنے کے بعد کیا مجال جو کبھی آپ نے کبھی اشارہ یا کنایہ اپنے اس رویہ کا ذکر بھی کیا ہو۔اب میاں بیوی کا معاملہ واحد ہوتا ہے۔کبھی تخلئے میں بھی انسان بے تکلفی میں اظہار کر دیتا ہے۔نہیں ہرگز نہیں۔اس قدر لمبا عرصہ گزارنے پر بھی مجھے کبھی کوئی ایسی مثال ڈھونڈے نہیں ملی۔“ مصباح خلافت نمبر دسمبر ، جنوری 65-1964 ، صفحہ 44 تا46) محترم مولانا محمد منور صاحب مبلغ مشرقی افریقہ نے بھی دو شادیاں کر رکھی تھیں اور وہ دونوں کے مفہوم پر پورا اتر رہی تھیں۔محترم مولانا مرحوم خود ہی اپنی بیویوں کے حسن سلوک کا ذکر ان الفاظ میں فرماتے ہیں : ” میری غیر حاضری میں بھی میری دونوں بیویوں کا باہم معاملہ غیر معمولی طور پر قابل تعریف رہا۔کبھی جھگڑے کی نوبت نہ آئی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ صرف میں ہی واقف زندگی نہ تھا