کتاب اللہ کا فیصلہ — Page 8
قیام و بقا عطا ہوتا ہے۔قادیانیت میں نفع رسانی کے جو جو ہر موجود نہیں ان میں اولین اہمیت اس عید و جہد کو حاصل ہے جو اسلام کے نام پر دہ غیر ممالک میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ لوگ قرآن کو غیر مکی زبانوں میں پیش کرتے ہیں۔تسلیت کو باطل ثابت کرتے ہیں۔سید المرسلین کی سیرت طیبہ کو عش کرتے ہیں۔ان ممالک میں مساجد بنواتے ہیں اور جہاں کہیں حکم ہوا اسلام کو امن اور سلامتی کے مذہب کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔غیر مسلم مالک میں قرآنی ترامیم اور اسلامی تبلیغ کا کام صرف اسی اصول نفع رسانی " کی وجہ سے قادیانیت کے بقا اور وجود کا باعث ہی نہیں ہے۔ظاہری حیثیت سے بھی اس کی وجہ سے قادیانیوں کی ساتھ قائم ہے۔ایک عبرت انگیز واقعہ خود بہار سے سامنے وقوع پذیر ہوا ء میں جب جسٹس منیر انکواری کورٹ میں علم اور اسلامی مسائل سے دل بہلا رہے تھے اور تمام مسلم جماعتیں قادیانیوں کو غیرمسلم ثابت کرنے کی جدو جہد میں مصروف تھیں۔قادیانی علی انہی دنوں ڈوچ اور بعض دوسری غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ قرآن کو مکمل کر چکے تھے۔اور انہوں نے انڈونیشیا کے صدر حکومت کے علاوہ گورنر جنرل پاکستان مسٹر غلام محمداور جسٹس منیر کی خدمت میں یہ ترامیم پیش کئے گویا وہ یزبان حالی و قال کہہ رہے تھے کہ ہم ہیں وہ غیر مسلم اور خارج از معیت اسلامیہ جماعت جو اس وقت جبکہ ہمیں آپ لوگ کافر قرار