کتاب اللہ کا فیصلہ — Page 5
(یوسف: ۱۰۹) تو کہ یہ میرا طریق ہے کہ میں اور میرے پیر و علی وجہ البصیرت اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں :- ہ ہم اس بات کے گواہ ہیں اور تمام دنیا کے سامنے اس شہادت کو ادا کرتے ہیں کہ ہم نے اس حقیقت کو جو خدا تک پہنچاتی ہے۔قرآن سے پایا۔ہم نے اس خدا کی آواز اُسنی اور اس کے پر زور بازو کے نشان دیکھے میں نے قرآن کو بھیجا۔سونم یعنی راستے کہ وہی سچا خدا اور تمام جہانوں کا مالک ہے۔ہمارا دل اس یقین سے ایسا پر ہے جیسا کہ سمندر کی زمین پانی سے۔سو تم بصیرت کی راہ سے اس دین اور اس روشنی کی طرف ہر ایک کو بلاتے ہیں۔(کتاب البریہ صفحہ ۶۵) آپ نے جلسہ العظیم مذاہب لا ہور ( ایم) میں بآواز بلند اعلان فرمایا ایک اسلام ہی ہے جس میں خدا بندہ سے قریب ہو کر اس سے باتیں کرتا ہے وہ اس کے اندر ہوتا ہے اور اس کے دل میں اپنا تخت بناتا اور اس کے اندر سے اسے آسمان کی طرف کھینچتا ہے۔میں بنی نوع پر ظلم کروں گا اگر میں اس وقت ظاہر نہ کردوں کہ وہ مقام جس کی میں نے یہ تعریفیں کی ہیں اور وہ مرتبہ مکالمہ اور مخاطبہ کا جس کی ہے یوتی میں نے اس وقت تفصیل بیان کی وہ خدا کی عنایت نے مجھے غایت فرمایا ہے" ( اسلامی اصول کی فہلا سفی)