کتاب اللہ کا فیصلہ — Page 22
۴۲ خود مولوی عبدالرحیم صاحب اشرف کے مسلمانوں کی کرب انگیز دنی واخلاقی و روحانی کیفیت پر بار بار روشنی ڈالی ہے۔چنانچہ اس سلسلہ میں موصوف نے مندر جہ ذیل پہلو بھی پیش کیا ہے۔لکھتے ہیں :۔ختم نبوت کا ایک لازمی تقاضا یہ تھا کہ امت محمدیہ بنیان مرصوص کی حیثیت سے قائم علی الحق رہتی اس کے جملہ مکاتیب فکر اور ت م فرقوں کے مابین دین کی اساسات پر اس نوع کا اتحاد ہوتا جس نوع کار اتحاد ایک صحیح الذین امت میں ہونا ناگزیر تھا لیکن غور کیجئے کیا ایسا ہوا؟ بلاشبہ ہم نے متعدد مراحل پر اتحاد امت کے تصور کو پیش کیا اور سب سے زیادہ قادیانیوں کے خلاف مناظرہ کے سٹیج سے ڈائرکٹ اکشن کے ویرانے تک ہم نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام کے تمام فریقے یکجان ہیں لیکن کیا حقیقتا الیا تھا۔کیا حالات کی شدید سے شدید تر نا مساعدت کے باوجود بہاری تلوار تکفیر نیام میں داخل ہوئی ؟ کیا ہولناک سے ہولناک تر واقعات مجھے ہمار سے منادی کی جنگ کو کو ٹھنڈا کیا ؟ کیا کسی مرحلہ پر بھی مہارا فرقہ معنی پر ہے اور باقی تمام جہنم کا ایندھن میں گئے نعرہ سے کان نامانوس ہوئے ؟ اگر ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی تو بتا ئیے اس سوال کا کیا جواب ہے کہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھنے والی اہمت کے اگر تمام فرقے کافر ہیں اور میرا ایک دوسرے کو جہنمی کہتا ہے تو لا محالہ ایک ایسے