کتاب اللہ کا فیصلہ — Page 23
۲۳ شخص کی ضرورت ہے جو سب کو اس کفر اور جہنم سے نکال کر اسلام اور جنت کا یقین دلا سکے۔دالته د مارچ در صفحه (۵) تاریخ (!) مند بعد بالا الفاظ ما مور وقت کی ٹھیک ٹھیک آمد کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔چھٹا اصول (صادق کی تکذیب و استہزاء ) بحشوة ነ ـرَةً عَلَى الْعِبَادَةِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِرُونَ (لين) ( ليس : ٣١) یعنی " کوئی رسول نہیں آیا جس سے جاہل آدمیوں نے ٹھٹھا نہیں کیا۔" • (حقیقة الوحی صفحه ۲۳) حضرت بانی مسلہ احمدیہ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے جو اس میں منا کے ساتھ حصر کیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو سچا ہے اس کے ساتھ سنی اور ٹھٹھا ضرور کیا جاتا ہے" 19۔1 (الحکم 4 امت ANG: در چشمہ معرفت صفحه ۳۱۸) (٣١) ایش نیروی میں آخری زمانہ کی یہ خاص علامت رکھتی ہے کہ : لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّى يُجْعَل كِتابُ اللهِ عَارًا وَيَكُوهُ إسْلَا مُغَرِيباً وَيُصَدَّقُ الكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ الصَّادِقُ ويقوم الخُطَبَارُ بِالكَذِبِ فَيَجْعَلُونَ حَقِى الشوار امتى فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِذَا إِلكَ وَرَضِيَ بِهِ لَمْـ