کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 81 of 162

کتابِ تعلیم — Page 81

Al اور پانی پلاتی ہے۔اور کپڑا پہناتی ہے۔بچہ اپنی ضرورتوں کو نہیں سمجھتا بلکہ ہاں بنی اس کی ضرورتوں کو خوب سمجھتی۔اور ان کو پورا کرنے کے خیال میں لگی رہتی ہے۔اسی طرح جب ماں کی تولیت سے نکل آئے تو انسان کو بالطبع ایک متولی کی ضرورت پڑتی ہے۔طرح طرح سے اپنے متولی اور لوگوں کو بناتا ہے جو خود کمزور ہوتے ہیں اور اپنی ضروریات میں غلطان ایسے ہوتے ہیں کہ دوسرے کی خبر نہیں سے سکتے۔لیکن جو لوگ ان سب سے منقطع ہو کر اس قسم کا تقویٰ اور اصلاح اختیار کرتے ہیں۔ان کا وہ خود متولی ہو جاتا ہے۔اور ان کی ضروریات اور حاجات کا خود ہی کفیل ہو جاتا ہے۔انہیں کسی بناوٹ کی ضرورت ہی نہیں رہتی وہ اس کی ضروریات کو ایسے طور سے سمجھتا ہے کہ یہ خود بھی اس طرح نہیں سمجھ سکتا اور اس پر اس طرح فضل کرتا ہے کہ انسان خود حیران رہتا ہے۔گرنہ مستانی به ستم می رسد والی نوبت ہوتی ہے۔لیکن انسان بہت سے زمانے پالیتا ہے۔جب اس پر ایسا زمانہ آتا ہے۔کہ خدا اس کا متوئی ہو جائے یعنی اس کو خدا تعالیٰ کی تولیت حاصل کرنے سے پہلے کئی متولیوں کی توثیت سے گزرنا پڑتا ہے۔جیسا کہ خدا فرماتا ہے۔قُل اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ لَا مَلِكِ النَّاسِ هُ إِليهِ النَّاسِهُ مِنْ شَرِّ الوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ لا مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ : پہلے حاجت ماں باپ کی پڑتی ہے۔پھر جب بڑا ہوتا ہے تو بادشاہوں اور حاکموں کی حاجت پڑتی ہے۔پھر جب اس سے آگے قدم بڑھاتا ہے۔اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے۔اور یہ سمجھتا ہے کہ جن کو میں نے متولی سمجھا ہوا تھا وہ خود ایسے کمزور تھے کہ ان کو متولی سمجھنا میری غلطی تھی۔کیوں کہ انہیں متولی بنانے میں نہ تو له : - الناس -