کتابِ تعلیم — Page 74
< کے لئے اور خدا کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف نہیں کر دیتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ پر نظر کر کے دیکھیں تو ان کو معلوم ہو کہ کس طرح اسلام کی زندگی کے لئے اپنی زندگیاں وقف کی جاتی تھیں۔یاد رکھو یہ خسارہ کا سودا نہیں ہے بلکہ بے قیاس تفع کا سودا ہے۔کاش مسلمانوں کو معلوم ہوتا اور اس تجارت کے مفاد اور منافع پر ان کو اطلاع ملتی جو خدا کے لئے اس کے دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرتا ہے۔کیا وہ اپنی زندگی کھوتا ہے۔ہر گز نہیں۔فله أجره عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ ولا هُمْ يَحْزَلون (البقرة :١٣) اس لیہی وقف کا اجر ان کا رب دینے والا ہے۔یہ وقف ہر قسم کے ہموم و عموم سے نجات اور رہائی بخشنے والا ہے۔۔۔۔۔۔میں خود جو اس راہ کا پورا تجربہ کا رہوں اور محض اللہ تعالے کے فضل اور فیض سے میں نے اس راحت اور لذت سے حظ اٹھایا ہے یہی آرزو رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کے لئے اگر مر کے پھر زندہ ہوں اور پھر مروں اور زندہ ہوں تو ہر بار میرا شوق ایک لذت کے ساتھ بڑھتا ہی جاوے پس میں چونکہ خود تجربہ کا رہوں اور تجربہ کر چکا ہوں اور اس وقف کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے مجھے وہ جوشش عطا فرمایا ہے کہ اگر مجھے یہ بھی کہیہ دیا جاوے کہ اس وقف میں کوئی ثواب اور فائدہ نہیں ہے بلکہ تکلیف اور دیکھ ہو گا تب بھی میں اسلام کی خدمت سے رک نہیں سکتا " و تفسیر سوره البقره از حضرت مسیح موعود ط