کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 60 of 162

کتابِ تعلیم — Page 60

ہے۔کیونکہ صراط مستقیم پر ہونا خدا کی صفت ہے۔علاوہ اس کے صراط مستقیم کی حقیقت حق اور حکمت ہے۔پس اگر وہ حق اور حکمت خدا کے بندوں کے ساتھ بجالایا جائے تو اس کا نام نیکی ہے اور اگر خدا کے ساتھ بجا لایا جائے تو اس کا نام اخلاص اور احسان ہے اور اگر اپنے نفس کے ساتھ ہو تو اس کا نام تزکیۂ نفس ہے اور صرح تنظیم الیسا لفظ ہے کہ جسمیں حقیقی کی اور خاص باشد اور تز کی نفی تینوں شامل ہیں۔اب اس جگہ یہ بھی سمجھنا چاہیئے کہ صراط مستقیم جو حق اور حکمت پر مبنی ہے۔تین قسم یہ ہے علمی اور علی اور حالی اور پھر یہ تینوں تین قسم پر ہیں۔علیمی میں حق اللہ اور حق العباد اور حق النفس کا شناخت کرنا ہے۔اور عملی میں ان حقوق کو بجا لانا۔مثلاً حق علمی یہ ہے کہ اس کو ایک سمجھنا اور اس کو مبداء تمام فیوض کا اور جامع تمام خوبیوں کا مرجع اور اب ہر ایک چیز کا اور منزہ ہر ایک عیب اور نقصان سے جانتا اور جامع تمام صفات کا ملہ ہونا اور قابل عبودیت ہونا۔اسی میں محصورہ رکھنا۔یہ تو حق اللہ میں علمی صراط مستقیم ہے۔اور علی صراط مستقیم یہ ہے جو اس کی طاعت اخلاص سے بجا لانا اور طاعت میں اس کا کوئی شریک نہ کرنا اور اپنی بہبودی کے لئے اسی سے دعا مانگنا اور اسی پر نظر رکھنا اور اسی کی محبت میں کھوئے جانا۔یہ علی صراط مستقیم ہے کیونکہ یہی حق ہے۔اور حق العباد میں علمی صراط مستقیم یہ جو ان کو اپنا بنی نوع خیال کرنا۔ادران کو بندگان خدا سمجھنا اور بالکل پیچ اور نا چیز خیال کرنا کیوں کہ معرفت حقہ مخلوق کی نسبت یہی ہے۔جو ان کا وجود ہیچ اور ناچیز ہے اور سب فانی ہیں یہ توحید علمی ہے۔کیوں کہ اس سے عظمت ایک کی