کتابِ تعلیم — Page 35
۳۵ یعنی مومن وہ ہیں ہم خدا کی محبت سے مسکینوں اور یتیموں اور قیدیوں کو روٹی کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس روٹی کھلانے سے تم سے کوئی بدلہ اور شکر گذاری نہیں چاہتے نہ ہماری اور کچھ غرض ہے۔ان تمام خدمات سے صرف خدا کا چہرہ ہمارا مطلب ہے۔اب سوچنا چاہیے کہ ان تمام آیات سے کس قدر صات طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف نے اعلیٰ طبقہ عبادت الہی اور اعمال صالحہ کا یہی رکھا ہے کہ محبت اپنی اور رضائے اپنی کی طلب سچے دل سے ظہور میں آدے " د روحانی خزائن جلدت ۳۳۰) اللہ جل شانہ اپنے وجود سے آپ خبر دیتا ہے یہ تو ہر ایک قوم کا دعویٰ ہے کہ بہتیرے ہم میں سے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں مگر تثبوت طلب یہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے یا نہیں ؟ اور خدا تعالیٰ کی محبت یہ ہے کہ پہلے تو اُن دلوں سے پردہ اٹھا ہے۔جس پروہ کی وجہ سے اچھی طرح انسان خدا تعالی کے وجود پر یقین نہیں رکھتا۔اور ایک دھندلی سی اور تاریک معرفت کے ساتھ اس کے وجود کا قائل ہوتا ہے۔بلکہ بسا اوقات امتحان کے وقت اس کے وجود سے ہی انکار کر بیٹھتا ہے۔اور یہ پردہ اٹھایا جانا بجز مکالمہ الہیہ کے اور کسی صورت میں میسر نہیں آسکتا۔پس انسان حقیقی معرفت کے چشمہ میں