کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 34 of 162

کتابِ تعلیم — Page 34

۳۴ نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے۔فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أوْ أَشَدَّ ذكرًا - ( البقره آیت: ۲۰۱) غرض آس إِنَّ اللهَ يَا مُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذی القربی کی یہ تفسیر ہے اور اس میں خدا تعالیٰ نے تینوں مرتبے انسانی معرفت کے بیان کر دیئے اور تیسرے مرتبہ کو محبت ذاتی کا مرتبہ قرار دیا۔اور یہ وہ مرتبہ ہے جس میں تمام اغراض نفسانی جل جاتے ہیں اور دل ایسا محبت سے بھر جاتا ہے جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔اسی مرتبہ کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَاللَّهُ رَسُونُ بِالْعِبَادِ - البقره آیت (۲۰۸) یعنی بعض مومن لوگوں میں سے وہ بھی ہیں کہ اپنی جانیں رضائے اپنی کے عوض میں بیچ دیتے ہیں۔اور خدا ایسوں ہی پر مہربان ہے اور پھر فرمایا بلى مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنُ فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ) (البقرة : ۱۱۳) یعنی وہ لوگ سنجات یافتہ ہیں جو خدا کو اپنا وجود حوالہ کر دیں اور اس کی نعمتوں کے تصور سے اس طور سے بہکی عباد کریں کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہیں سو ایسے لوگ خدا کے پاس سے اجر پاتے ہیں اور نہ ان کو کچھ خوف ہے اور نہ دے کچھ غم کرتے ہیں یعنی ان کا مدعا خدا اور خدا کی محبت ہو جاتی اور خدا کے پاس کی نعمتیں ان کا اجر ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ فرمایا وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينَا وَيَتِيمَا وَ استراه إنَّمَا نَطْعِمُكُمْ بِوَجْهِ اللهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَلاَ شَكُورًا (الدهر آیت : ٨-٩)