کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 33 of 162

کتابِ تعلیم — Page 33

٣٣ تب انسان ایک صاف نظر سے جس کے ساتھ ایک درہ شرک فی الاسباب کی گرد و غبار نہیں۔خدا تعالیٰ کے احسانوں کو دیکھتا ہے اور یہ رویت اس قسیم کی صاف اور یقینی ہوتی ہے کہ وہ ایسے محسن کی عبادت کرنے کے وقت اس کو غائب نہیں سمجھتا بلکہ یقیناً اس کو حاضر خیال کر کے اس کی عبادت کرتا ہے اور اس عبادت کا نام قرآن شریف میں احسان ہے اور صحیح بخاری میں اور مسلم میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کے یہی معنے بیان فرمائے ہیں اور اس درجہ کے بعد ایک اور درجہ ہے جس کا نام ایسا ہی ذی القربی ہے اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب انسان ایک مدت تک احسانات اللی کو بلا شرکت اسباب دیکھتا رہے اور اس کو حاضر اور بلا واسطہ محسن سمجھ کر اس کی عبادت کر تا رہے تو اس تصور اور تخیل کا آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک ذاتی محبت اس کو جناب الہی کی نسبت پیدا ہو جائے گی۔کیوں کہ متواترہ احسانات کا دائمی ملاحظه بالضرورت شخص ممنون کے دل میں یہ اثر پیدا کرتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ اس شخص کی ذاتی محبت سے بھر جاتا ہے جس کے غیر محدود احسانات اس پر محیط ہو گئے پس اس صورت میں وہ صرف احسانات کے تصور سے اس کی عبادت نہیں کرتا بلکہ اس کی ذاتی محبت اس کے دل میں بیٹھ جاتی ہے جیسا کہ بچہ کو ایک ذاتی محبت اپنی ماں سے ہوتی ہے۔پس اس مرتبہ یہ وہ عبادت کے وقت صرف خدا تعالی کو دیکھتا ہی نہیں بلکہ دیکھے کہ سچے عشاق کی طرح لذت بھی اُٹھاتا ہے اور تمام اعراض نفسانی معدوم ہو کہ ذاتی محبت اس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے اور یہ وہ مرتبہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے لفظ التائی ذی القربی سے تعبیر کیا ہے اور اسی کی طرف خُدا تعالیٰ