کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 32 of 162

کتابِ تعلیم — Page 32

۳۲ حقیقی کا پورا چہرہ دیکھنے سے روک دیتا ہے۔اس لئے ان کو وہ صاف نظر میسر نہیں آئی جیسی کامل طور پر معطی حقیقی کا جمال مشاہدہ کر سکتے۔سو ان کی ناقص معرفت رعایت اسباب کی کدورت سے ملی ہوئی ہوتی ہے اور بوجہ اس کے جو وہ خدا کے احسانات کو اچھی طرح دیکھ نہیں سکتے خود بھی اس کی طرف وہ التفات نہیں کرتے جو احسانات کے مشاہدہ کے وقت کرنی پڑتی ہے جسے محسن کی شکل نظر کے سامنے آجاتی ہے بلکہ ان کی معرفت ایک دھندلی سی ہوتی ہے۔وجہ یہ کہ وہ کچھ تو اپنی محنتوں اور اور اپنے اسباب پر بھروسہ رکھتے ہیں اور کچھ تکلیف کے طور پر یہ بھی مانتے ہیں کہ خدا کا حق خالقیت اور رزاقیت ہمارے سر پہ واجب ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ انسان کو اس کے وسوت فہم سے زیادہ تکلف نہیں دیتا اس لئے ان سے جب تک کہ وہ اس حالت میں ہیں یہی چاہتا ہے کہ اس کے حقوق کا شکر ادا کریں۔اور آیت ان الله یا مر با تعدل (النحل : 41) میں عدل سے مراد یہی اطاعت برعایت عدل ہے مگر اس سے بڑھ کر ایک اور مرتبہ انسان کی معرفت کا ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں۔انسان کی نظر روئیت اسباب سے بالکل پاک اور منزہ ہو کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ہاتھ کو دیکھ لیتی ہے اور اس مرتبہ پر انسان اسباب کے حجابوں سے بالکل باہر آجاتا ہے اور یہ مقولہ کہ مثلاً میری اپنی ہی آب پاشی سے میری کھیتی ہوئی اور میرے اپنے ہی بازو سے یہ کامیابی مجھے ہوئی یا زیاد کی مہربانی سے فلاں مطلب میرا پورا ہوا اور بکر کی خبر گیری سے میں تباہی سے بچ گیا۔یہ تمام باتیں پہنچ اور باطل معلوم ہونے لگتی ہیں اور ایک ہی ہستی اور ایک ہی قدرت اور ایک ہی محسن اور ایک ہی ہاتھ نظر آتا ہے۔