کتابِ تعلیم — Page 31
۳۱ یہ آیت حق اللہ اور حق العباد پر مشتمل ہے اور اس میں کمال بلاغت یہ ہے کہ دونوں پہلو پر اللہ تعالیٰ نے اس کو قائم کیا ہے۔بحق العباد کا پہلو تو ہم ذکر کر چکے ہیں اور حق اللہ کے پہلو کی رُو سے اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ انصاف کی پابندی سے خدا تعالیٰ کی اطاعت کر۔کیوں کہ جس نے تجھے پیدا کیا اور تیری پرورش کی اور ہر وقت کہ رہا ہے اس کا حق ہے کہ تو بھی اس کی اطاعت کر سے اور اگر اس سے زیادہ تجھے بصیرت ہو تو نہ صرف رعایت حق سے بلکہ احسان کی پابندی سے اس کی اطاعت کر کیوں کہ وہ محسن ہے اور اس کے احسان اس قدر ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتے اور ظاہر ہے کہ عدل کے درجہ سے بڑھ کر وہ درجہ ہے جس میں اطاعت کے وقت احسان بھی ملحوظ رہے اور چونکہ ہر وقت مطالعہ اور ملاحظہ احسان کا محسن کی شکل اور شمائل کو ہمیشہ نظر کے سامنے لے آتا ہے اس لئے احسان کی تعریف میں یہ بات داخل ہے کہ ایسے طور سے عبادت کر سے کہ گویا خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور خدا تعالٰی کی اطاعت کرنے والے در حقیقت تین قسم پر منقسم ہیں۔اول وہ لوگ جو بباعث محبوبیت اور رویت اسباب کے احسان الہی کا اچھی طرح ملاحظہ نہیں کرتے اور نہ وہ جوش ان میں پیدا ہوتا ہے جو احسان کی عظمتوں پر نظر ڈال کر پیدا ہوا کرتا ہے۔اور نہ وہ محبت ان میں حرکت کرتی ہے جو محسن کی عنایات تعظیمہ کا تصور کر کے جنبش میں آیا کہتی ہے بلکہ صرف ایک اجمالی نظر سے خدا تعالے کے حقوق خالقیت وغیرہ کو تسلیم کر لیتے ہیں اور احسان الہی کی ان تفصیلات کو جن میں ایک باریک نظر ڈالنا اس حقیقی محسن کو نظر کے سامنے لے آتا ہے۔ہر گز مشاہدہ نہیں کرتے۔کیوں کہ اسباب پرستی کا گرد و غبار مسبب