کتابِ تعلیم — Page 151
۱۵۱ اور صفات میں وحدہ لاشریک سمجھتا ہے ایسے ہی عملی طور پر اس کو دکھانا چاہیئے۔اور اس کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور ملائمت سے پیش آنا چاہیئے اور اپنے بھائیوں سے کسی قسم کا بھی نبض حداد در کینہ نہیں رکھنا چاہیئے اور دوسروں کی غیبت کرنے سے بال لگ ہو جانا چاہئے۔لیکن میں دکھتا ہوں کہ یہ معاملہ تو ابھی دور ہے کہ تم لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسے از خود رفتہ اور محو ہو جاؤ کہ بس اُسی کے ہو جاؤ اور جیسے زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو عمل سے بھی کر کے دکھاؤ۔ابھی تو تم لوگ مخلوق کے حقوق کو بھی کیا حقہ ادا نہیں کرتے۔بہت سے ایسے ہیں جو آپس میں فساد اور دشمنی رکھتے ہیں اور اپنے سے کمزور اور غریب شخصوں کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں اور بدسلوکی سے پیش آتے ہیں اور ایک دوسرے کی غیبتیں کرتے اور اپنے دلوں میں بعض اور کینہ رکھتے ہیں۔لیکن خداتعالی فرماتا ہے کہ تم آپس میں ایک وجود کی طرح بن جاؤ۔اور جب تم ایک وجود کی طرح ہو جاؤ گے اس وقت کر سکیں گے کہ اب تم نے اپنے نفسوں کا تزکیہ کر لیا۔کیونکہ جب تک تمہارا آپس میں معاملہ صاف نہیں ہوگا۔اس وقت تک خدا تعالے سے بھی معاملہ صاف نہیں ہو سکتا۔گو ان دونوں قسم کے حقوق میں بڑا حق خدا تعالیٰ کا ہے مگر اس کی مخلوق کے ساتھ معاملہ کرنا یہ بطور آئینہ کے ہے جو شخص اپنے بھائیوں سے صاف صاف معاملہ نہیں کرتا وہ خدا تعالے کے حقوق بھی ادا نہیں کر سکتا۔یاد رکھو۔اپنے بھائیوں کے ساتھ بیلی صاف ہو جانا یہ آسان کام نہیں بلکہ نہایت مشکل کام ہے۔منافقانہ طور پر آپس میں منا گنا اور بات ہے مگر سچی محبت اور ہمدردی سے پیش آنا اور چیز ہے۔یاد رکھو اگر جماعت میں بھی ہمدردی نہ ہوگی تو پھر یہ تباہ ہو جائے گی۔اور خطا اسکی جگہ کوئی اور جماعت پیدا کرنے گا۔( ملفوظات جلد پنجم منت )