کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 97 of 162

کتابِ تعلیم — Page 97

96 (۳) سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ۔(1) ظَالِم لِنَفسم تو وہ ہوتے ہیں جو نفس امارہ کے پنجے میں گرفتار ہوں اور ابتدائی درجہ پر ہوتے ہیں ، جہاں تک ان سے مکن ہوتا ہے وہ سعی کرتے ہیں کہ اس حالت سے نجات پائیں۔(ب) مقتصد وہ ہوتے ہیں جن کو میا نہ کرو کہتے ہیں۔ایک درجہ تک وہ نفس امارہ سے نجات پا جاتے ہیں لیکن پھر بھی کبھی کبھی اس کا حملہ ان پر ہوتا ہے۔اور وہ اس حملہ کے ساتھ ہی نادم بھی ہوتے ہیں۔پورے طور پر ابھی نجات نہیں پائی ہوتی۔(ج) مگر سابق بالخَيْرَاتِ وہ ہوتے ہیں کہ ان سے نیکیاں ہی سرزد ہوتی ہیں اور وہ سب سے بڑھ جاتے ہیں۔ان کی حرکات و سکنات طبعی طور پر اس قسم کی ہو جاتی ہیں کہ ان سے افعال حسنہ ہی کا صدر ہوتا ہے گویا ان کے نفس امارہ پر با مشکل موت آجاتی ہے۔اور وہ مطمئنہ حالت میں ہوتے ہیں۔ان سے اس طرح پر نیکیاں عمل میں آتی ہیں۔کہ گویا وہ ایک معمولی امر ہے۔اس لئے ان کی نظر میں بعض اوقات وہ امر بھی گناہ ہوتا ہے جو اس حد تک دوسرے اس کو نیکی ہی سمجھتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی معرفت اور بصیرت بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے جو صوفی کہتے ہیں۔حسنات الابرار سيئات المقربين۔( ملفوظات جلد چهارم )