کتابِ تعلیم — Page 57
۵۷ بسم الله الرحمن الرحیم مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمه نحمده ونصلى على رسوله الكريم السلام و علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته ر حضور تعزیتی کلمات کے بعد فرماتے ہیں :- مجھے کبھی ایسا موقع چند مخلصانہ نصائح کا آپ کے لئے نہیں ملا۔جیسا آج ہے۔جاننا چا ہیے کہ خدا تعالیٰ کی غیوری محبت ذاتیہ میں کسی مومن کی اس کے غیر سے شراکت نہیں چاہتی۔ایمان جو ہمیں سبسے پیارا ہے وہ اسی بات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔کہ ہم محبت میں دوسر سے گو اس سے شریک نہ کریں۔اللہ جل شانہ مومنین کی علامت یہ فرماتا ہے :- وَالَّذِينَ آمَنُوا اشَدُّ حُبَّا لِلَّهِ - البقره : ۱۳) یعنی جو مومن ہیں۔وہ خدا سے بڑھ کر کسی سے دل نہیں لگاتے۔محبت ایک خاص حق اللہ جل شانہ کا ہے جو شخص اس کا حق دوسر سے کر دے گا۔وہ تباہ ہو گا۔تمام برکتیں جو سروان خدا کو ملتی ہیں۔تمام قبو لیتیں جو ان کو حاصل ہوتی ہیں۔کیا وہ معمولی وظائف سے یا معمولی نمانہ روزہ سے ملتی ہیں ہر گز نہیں۔بلکہ وہ توحید فی المحبت سے ملتی ہیں۔اسی کے ہو جاتے ہیں اسی کے ہو رہتے ہیں۔اپنے ہاتھ سے دوسروں کو اس کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔میں خوب اس درد کی حقیقت کو پہنچتا ہوں کہ جو ایسے شخص کو ہوتا ہے کہ یکدفعہ وہ ایسے شخص سے جدا کیا جاتا ہے۔جس کو وہ اپنے قالب کی گویا جان جانتا ہے۔لیکن مجھے زیادہ غیرت اس بات میں ہے کہ کیا ہمارے حقیقی پیارے کے مقابل پر کوئی اور ہونا چاہیے۔ہمیشہ سے میرا دل یہ فتویٰ دیتا ہے کہ غیر سے مستقل محبت کرنا کہ