کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 52 of 162

کتابِ تعلیم — Page 52

۵۲ خدا تعالیٰ اپنی طرف آنے والے کی سعی اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا۔یہ ممکن ہے کہ زمیندارہ اپنا کھیت ضائع کر لے۔نوکر موقوف ہو کر نقصان پہنچا ہے امتحان دینے والا کا میاب نہ ہو مگر خدا کی طرف سعی کرنیوالا کبھی بھی نا کام نہیں رہتا۔اس کا سچا وعدہ ہے۔والَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَاء (العنكبوت :۔خدا تعالیٰ کی راہوں کی تلاش میں جو جو یا ہوا۔وہ آخر منزل مقصود پر پہنچا۔دنیوی امتحانوں کیلئے تیاریاں کر نیوالے راتوں کو دن بنا دینے والے طالب علموں کی محنت اور حالت کو ہم دیکھ کر رحم کھا سکتے ہیں تو کیا اللہ تعالیٰ جس کا رحم اور فضل بے حد اور مجھے انت ہے اپنی طرف آنے والے کو ضائع کر دے گا۔ہر گتہ نہیں۔ہرگز نہیں ، اللہ تعالے کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔اِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ۔(سورۃ توبہ : ۱۲۰) اور پھر فرماتا: - فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا ترة ، (سورہ الزلزال : ہم دیکھتے ہیں کہ ہر سال ہزار ہا طالب علم سال ہا سال کی محنتوں اور مشقتوں پر پانی پھر تا ہوا دیکھ کر روتے رہ جاتے ہیں اور خود کشیاں کر لیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا فضل صمیم ایسا ہے کہ وہ ذرا سے عمل کو بھی ضائع نہیں کرتا۔پھر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ انسان دنیا میں ظنی اور وہمی باتوں کی طرف تو اس قدر گرویدہ ہو کر محنت کرتا ہے کہ آرام اپنے اوپر گو یا حرام کر لیتا ہے اور صرف خشک امید پر کہ شاید کامیاب ہو جاویں ہزار ہا ر نیچ اور دکھ اٹھاتا ہے۔تاجر نفع کی امید پر لاکھوں روپے لگا دیتا ہے مگر یقین اسے بھی نہیں ہوتا کہ ضرور نفع ہی ہوگا۔مگر خدا تعالیٰ کی طرف جانے والے کی رجس کے دعد سے یقینی اور حتمی ہیں کہ جس کی طرف قدم اٹھانے والے کی ذرا بھی محنت