کتابِ تعلیم — Page 24
۲۴ جب سالک یہاں پہنچتا ہے تو خدا ہی خدا کا حلوہ دیکھتا ہے۔اس کا دل عرش الہی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر نزول فرماتا ہے۔سلوک کی تمام منزلیں یہاں آکر ختم ہو جاتی ہیں کہ انسان کی حالت تعبد درست ہو جس میں روحانی باغ لگ جاتے ہیں اور آئینہ کی طرح خدا نظر آتا ہے۔اسی مقام پر پہنچ کر انسان دنیا میں جنت کا نمونہ پاتا ہے اور یہاں ہی هذ الذي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَاتُوا بِهِ مُتَشَابِهَا البقره : ٢٢) کہنے کا حظ اور لطف اُٹھاتا ہے۔غرض حالت تعید کی درستی کا نام عبادت ہے۔پھر فرمایا۔انني تكُمْ مِنْهُ نَذِيرُ و بَشیر چونکہ یہ تعبد نام کا عظیم الشان کام انسان بڑوں کسی اسوہ حسنہ اور نمونہ کاملہ کے اور کسی قوت ترسی کے کامل اثر کے بغیر نہیں کر سکتا تھا اس لئے رسول اللہ صلعم فرماتے ہیں۔کہ میں اسی خدا کی طرف سے نذیر و بشیر ہو کر آیا ہوں۔اگر میری اطاعت کرو گے اور مجھے قبول کرو گے تو تمہارے لئے بڑی بڑی بشارتیں ہیں کیونکہ میں بشیر ہوں اور اگر رد کرتے ہو تو یاد رکھو کہ میں نذیر ہو کر آیا ہوں پھر تم کو بڑی بڑی عقوبتوں اور دکھوں کا سامنا ہو گا۔اصل بات یہی ہے کہ بہشتی زندگی اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے اور اسی طرح پر کورانہ زیست جو خداتعالی اور اس کے رسول سے بالکل الگ ہو کہ بسر کی جاو سے جہنی زندگی کا نمونہ ہے۔اور وہ بہشت جو مرنے کے بعد ملے گا اسی بہشت کا اصل ہے اور اسی۔لئے تو بہشتی لوگ نعماء جنت کے حظ اٹھاتے وقت کہیں گے هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ دنیا میں انسان کو جو بہشت حاصل ہوتا ہے وہ وَقَد اَفْلَحَ مَنْ زَكَهَا ) الشمس (1) پر عمل