کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 145 of 162

کتابِ تعلیم — Page 145

۱۴۵ کے واسطے جھوٹی تہمت اس پر لگاتے ، افتراء کرتے اور اس کی غیبت کرتے اور دوسروں کو اس کے خلاف اکساتے ہیں۔اب بتاؤ کر معمولی دشمنی سے کسقدر برائیوں اور بدیوں کا وارث بنا اور پھر یہ بدیاں جب اپنے بچے دیں گی تو کہاں تک نوبت پہنچے گی " الملفوظات جلد چهارم ) جب تک شمن کیلئے دعانہ کی جائے پوری طور پر سید نا نہیں ہوتا بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک شمن کیلئے دعا نہ کی جان سے پورے طور پر سکینہ صاف نہیں ہوتا۔ادعونی استجب لحکم (المومن (41) میں اللہ تعالیٰ نے قید نہیں لگائی کہ دشمن کے لئے دعا کرو تو قبول نہیں کروں گا۔بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے لئے دُعا کرنا یہ بھی سنت نبوی ہے حضرت عمران اسی سے مسلمان ہوئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے اس لئے بخل کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں کرنی چاہیے اور حقیقہ موذی نہیں ہونا چاہیئے۔شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے دو تین مرتبہ دعا نہ کی ہو ایک بھی ایسا نہیں اور یہی میں تمہیں کہتا ہوں اور سکھاتا ہوں۔خدا تعالیٰ اس سے کہ کسی کو حقیقی طور پر ایڈا پہنچائی جاوے اور ناحق مخل کی راہ سے دشمنی کی جاوے ایسا ہی بیزار ہے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ کوئی اس کے ساتھ ملایا جاد نے۔ایک جگہ وہ فصل اور ایک جگہ وہ وصل نہیں چاہتا یعتی بنی نوع