کتابِ تعلیم — Page 146
انسان کا باہمی فعل اور اپنا کسی غیر کے ساتھ وصل اور یہ وہی راہ ہے کہ منکروں کے واسطے بھی دعا کی جاوے اس سے سینہ صاف اور انشراح پیدا ہوتا ہے اور ہمت بلند ہوتی ہے اس لئے جب تک ہماری جماعت یہ رنگ اختیار نہیں کرتی اس میں اُس کے غیر میں پھر کوئی امتیاز نہیں ہے۔میرے نزدیک یہ ضروری امر ہے کہ جو شخص ایک کے ساتھ دین کی راہ سے دوستی کرتا ہے اور اس کے عزیزوں سے کوئی ادنی درجہ کا ہے تو اس کے ساتھ نہایت رفق اور ملائمت کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور اُن سے محبت کرنی چاہیئے " الملفوظات جلد دوم مت) مخلوق خدا سے ایسی ہمدردی سے پیش آؤ جیساکہ مائیں اپنے بچوں کے ساتھ پیش آتی ہیں۔خدا تم سے کیا چاہتا ہے۔بس یہی کہ تم تمام نوع انسان سے عدل سے پیش آیا کرو۔پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان سے بھی نیکی کرد جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نہیں کی پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم مخلوق خدا سے ایسی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ کہ گویا تم اُن کے حقیقی رشتہ دار ہو جیسا کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں کیوں کہ احسان میں ایک خود نمائی کا مادہ بھی مختفی ہوتا ہے اور احسان کرنے وال بھی اپنے احسان کو قتل بھی دیتا ہے لیکن وہ جو ماں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرتا ہے وہ کبھی خود نمائی نہیں کر سکتا۔پس آخری درجہ نیکیوں کا طبعی جوش ہے جو ماں کی طرح ہوا اور یہ