کتابِ تعلیم — Page 130
ہے۔پھر اگر اس کے فضل سے اس کو حقہ مل جاد سے اور کسی وقت کسی قسم کا بسطہ اور شرح صدر حاصل ہو جاوے تو اس پر تکبر اور نا نہ نہ کرے بلکہ اس کی فروتنی اور انکسار میں اور بھی ترقی ہو۔کیونکہ جس قدر وہ اپنے آپ کو لاشئی سمجھے گا اسی قدر کیفیات اور انوار خدا تعالیٰ سے اتریں گے جو اس کو روشنی اور قوت پہنچائیں گے۔اگر انسان یہ عقیدہ رکھے گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی اخلاقی حالت عمدہ ہو جائے گی۔دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبر ہے اور یہی حالت بنا دیتا ہے۔پھر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ دوسرے پر لعنت کرتا ہے اور اُسے حقیر سمجھتا ہے۔یکن یہ سب باتیں بار بارہ اس لئے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گم ہو چکی ہے اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔اسے دوبارہ قائم کرے۔عام طور پر تکبر دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔علماء اپنے علم کی شیخی اور تکبیر میں گرفت رہیں۔فقراء کو دیکھو تو ان کی بھی حالت اور ہی قسم کی ہو رہی ہے ان کو اصلاح نفس سے کوئی کام ہی نہیں رہا۔ان کی غرض و غایت صرف تقسیم تک محدود ہے۔اس لئے اُن کے مجاہد سے اور ریاضتیں بھی کچھ اور ہی قسم کی ہیں جیسے ذکر ارہ وغیرہ۔جن کا چشمہ نبوت سے پتہ نہیں چلتا۔میں دیکھتا ہوں کہ دل کو پاک کرنے کی طرف ان کی توجہ ہی نہیں۔صرف جسم ہی جسم باقی رہا ہوتا ہے جس میں روحانیت کا کوئی نام و نشان نہیں۔یہ مجاہد سے دل کو پاک نہیں کر سکتے اور نہ کوئی حقیقی نور معرفت کا بخش سکتے ہیں۔پس یہ زمانہ اب بالکل خالی ہے۔نبوی طریق جیسا کہ کرنے کا تھا وہ