کتابِ تعلیم — Page 56
۵۶ السلام و علیکم ورحمہ اللہ کے کہنے کی حقیقت یہی ہے کہ جب ایک انسان نے نماز کا عقد باندھا اور اللہ اکبر کہا۔تو وہ گویا اس عالم سے نکل گیا اور ایک نئے جہان میں جا داخل ہوا۔گویا ایک مقام محویت میں جا پہنچا۔پھر جب وہاں سے واپس آیا تو السلام وعلیکم و رحمتہ اللہ کہ کہ آن ملا لیکن صرف ظاہری صورت کافی نہیں ہو سکتی۔جب تک دل میں اس کا اثر نہ ہو چھینکوں سے کیا ہا تھ آسکتا ہے۔محض صورت کا ہونا کافی نہیں حال ہونا چاہیئے۔علت نمائی حال ہی ہے مطلق قال اور صورت جس کے ساتھ حال نہیں ہوتا وہ تو الٹی ہلاکت کی راہیں ہیں۔انسان جب حال پیدا کر لیتا ہے اور اپنے حقیقی خالق و مالک سے ایسی سچی محبت اور اخلاص پیدا کر لیتا ہے کہ یہ بے اختیا نہ اس کی طرف پروانہ کر نے لگتا ہے اور ایک حقیقی محویت کا عالم اس پر طاری ہو جاتا ہے تو اس وقت اس کیفیت سے انسان گویا سلطان بن جاتا ہے اور ذرہ ذرہ اس کا خادم بن جاتا ہے یا التفسير سورة البقرة من والبدر جلد ۳ ۳۲ - ۲۴ اگست نشاء ص) ٢٤ تجو مومن ہیں وہ خدا سے بڑھ کر کسی سے دل نہیں لگاتے“ مکرم سند رواس کی وفات پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۵ فروری شاہ کو تعزیتی خط لکھ کر چوہدری رستم علی صاحب کو جو سندرو اس صاحب سے بہت محبت کرتے تھے چند نصائح فرمائیں۔مضمون خط حسب ذیل ہے :-