کتابِ تعلیم — Page 55
ده اور عشق الہی کی آگ ان امانی اور نفسانی خیالات کو جلا دیتی ہے پھر ان کے اندر رح ناطق ہو جاتی ہے۔اور پاک نطق جواد ہر سے شروع ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا نطق ہوتا ہے۔دوسرے رنگ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ دعا کرتا ہے اور اللہ تعالٰی اس کو جواب دیتا ہے۔پس یہ ایک کمال نبوت ہے۔اور انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں رکھا گیا ہے۔اس لئے جب انسان اهدِنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحه ) کی دُعا مانگے تو اس کے ساتھ ہی یہ امر پیش نظر رہے کہ اس کمال نبوت کو حاصل کر سے " ر سوره فاتحه و الحکم، را پریل شارد مث) اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لئے ایک محویت کی ضرورت ہے " اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لئے ایک محویت کی ضرورت ہے۔ہم بار بار اپنی جماعت کو اس پر قائم ہونے کے لئے کہتے ہیں کیوں کہ جب دنیا کی طرف سے انقطاع اور اس کی محبت دلوں سے ٹھنڈی ہو کہ اللہ تعالیٰ کے لئے خطر توں میں طبعی جوش اور محویت پیدا نہیں ہوتی۔اس وقت تک ثبات میسر نہیں آسکتا۔بعض صوفیوں نے لکھا ہے کہ صحابہ جب نمازیں پڑھا کر تے تھے تو انہیں ایسی محویت ہوتی تھی کہ جب فارغ ہوتے تو ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکتے تھے۔جب انسان کسی اور جگہ سے آتا ہے تو شریعت نے حکم دیا ہے کہ وہ اگر السلام وعلیکم کہے نماز سے فارغ ہوتے