کتابِ تعلیم — Page 120
۱۲۰ ہیں۔لیکن فرق یہ ہے کہ وہ پاک لوگ پہلے خدا تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے تمام خواہشوں اور جذبات نفسانیہ سے الگ ہو جاتے ہیں۔اور اپنے نفس کو خدا کے آگے ذبح کر دیتے ہیں۔اور پھر جو خدا تعالیٰ کے لئے کھوتے ہیں فضل کے طور پر ان کو واپس دیا جاتا ہے۔اور سب کچھ ان پر وارد ہوتا ہے اور وہ درماندہ نہیں ہوتے مگر جو لوگ خدا تعالٰی کے لئے اپنا نفس ذبح نہیں کرتے ان کے شہوات ان کے لئے بطور پروہ کے ہو جاتے ہیں۔آخر نجاست کے کیڑے کی طرح گند میں مرتے ہیں۔پس ان کی اور خدا کے پاک لوگوں کی شال یہ ہے کہ جیسے ایک ہی جیل خانہ میں داروغہ جیل بھی رہتا ہے اور قیدی بھی رہتے ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ داروغہ ان قیدیوں کی طرح ہے "۔د روحانی خزائن جلد ۲۲ حث ) پورے طور پر تزکیر تھوڑے ہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے او پورے طور پر تزکیہ تھوڑے ہی تشخصوں کو حاصل ہوتا ہے۔اکثر لوگ جو نیک ہوتے ہیں سبب کمزوری کی کچھ نہ کچھ خرابی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ان کے دین میں کوئی حصہ دنیوی ملونی کا بھی ہوتا ہے۔اگر انسان اپنے سارے امور میں صاف ہو اور ہر بات میں پوری طرح تزکیہ نفس رکھتا ہو وہ ایک قطب اور غوث بن جاتا ہے کہ د ملفوظات جلد پنجم و )