کتاب محفوظ — Page 5
بسم الله الرحمن الرحیم پیش لفظ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان نے ” قرآن مجید میں رد و بدل" کے عنوان سے ایک نگیز کتابچہ شائع کیا ہے۔اس میں بانی جماعت احمدیہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواة والسلام اور تمام احمدیوں پر " تحریف قرآن " کا الزام لگایا گیا ہے۔1973ء میں بھی مخالفین احمدیت نے یہی ناپاک پراپیگنڈہ کیا تھا جسے بھر پور تحریک کی صورت میں جمیعتہ العلماء اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا مفتی محمود نے کوئٹہ (بلوچستان) سے شروع کیا اور شور مچایا کہ احمدیوں نے رد و بدل کر کے تحریف شدہ قرآن مجید شائع کئے ہیں۔جماعت احمدیہ کی طرف سے اسی وقت روزنامہ الفضل کے صفحہ اول پر : " ایک سرا سر جھوٹے اور بے بنیاد الزام کی پر زور تردید " کے عنوان سے حسب ذیل نوٹ شائع ہوا :- " ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ الزام سراسر جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ربوہ میں کوئی ایسا قرآن شائع نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔کیونکہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ قرآن کریم کا ایک نقطہ یا شعثہ بھی تاقیامت منسوخ نہیں ہو سکتا۔لہذا جماعت احمدیہ کی طرف سے کسی تحریف شدہ قرآن مجید کے شائع ہونے اور اس اور کا کے نسخے تقسیم کئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔( الفضل یکم اگست 1973ء) حکومت وقت نے اپنے طور پر تحقیق کی۔گورنر بلوچستان جناب نواب محمد اکبر بگٹی کی طرف سے اخبارات میں بیان شائع ہوا کہ :