کتاب محفوظ — Page 44
نیز فرمایا نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلام پاک رحماں ہے بہار جاوداں پیدا ہے اس کی ہر عبارت میں نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اس سا کوئی بستاں ہے کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز اگر لوکوئے مماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے (براہین احمدیہ - روحانی خزائن جلد نمبر ا ص ۱۹۸ دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآن کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے اپنے فارسی کلام میں قرآن پاک کی مدح ان الفاظ میں فرمائی۔ه از نور پاک قرآن صبح صفا و میده۔برنچہ ہائے دلہا باد صبا وزیده قرآن کے پاک نور سے روشن صبح نمودار ہو گئی اور دلوں کے غنچوں پر باد صبا چلنے گئی این روشنی و لمعان شمس الضحی ندارد۔و این دلبری و خوبی کس در قمر ندیده ایسی روشنی اور چمک تو دوپہر کے سورج میں بھی نہیں اور ایسی کشش اور حسن تو کسی چاندنی میں بھی نہیں۔یوسف بقعر چاه محبوس ماند تنا۔ویں یوسفے که تن با از چاه برکشیده یوسف تو ایک کنوئیں کی تہ میں اکیلا گرا تھا مگر اس یوسف نے بہت سے لوگوں کو کنوئیں۔میں سے نکالا۔از مشرق معافی صدہا و قایق آورد۔قد طلال نازک زان ناز کی خمیده منبع حقایق سے یہ سینکڑوں حقایق اپنے ہمراہ لایا ہے۔ہلال نازک کی کمر ان حقایق سے جھک گئی۔