کتاب محفوظ — Page 41
ہوا اس میں یہ کہا گیا تھا کہ قرآن قادیان کے قریب ہی اترا ہے۔یہ مضمون حضرت مرزا صاحب نے کسی جگہ پر بھی بیان نہیں کیا بلکہ ہر جگہ یہی بیان کیا ہے کہ قادیان کے قریب جو کچھ نازل ہوا ہے وہ مسیح موعود اور اس پر نازل ہونے والے آسمانی نشانات ہیں۔چنانچہ تذکرہ جہاں سے لدھیانوی صاحب نے یہ کشف لیا ہے وہیں پر براہین احمدیہ کا یہ حوالہ لکھا ہے:۔انا انزلناه قريبا من القاديان و با لحق انزلنه و با لحق نزل --- یعنی ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الهام پر از معارف و حقائق کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔اور ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے۔اور بضرورت حقہ اترا ہے۔" (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه ۴۹۸ روحانی خزائن جلد ۱ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) ایک اور جگہ لکھا ہے:۔اس الهام پر نظر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیان میں خدائے تعالی کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیشگوئی کے پہلے سے لکھا گیا تھا۔" (ازالہ اوہام صفحہ ۷۳ حاشیہ بحوالہ تذکرہ حاشیہ ) 000