کتاب محفوظ — Page 40
سب کو پسند آئی"۔تذکرہ خواجہ سلیمان تونسوی - اردو ترجمہ نافع السا لکین صفحه ۱۵۶) ہاں ہاں ! یہ عمدہ تعبیر ہر کسی کے فکر و عقل کے مطابق تھی سوائے مصنف رسالہ کی عقل و ا فکر کے! انہیں کے پیرو مرشد مولوی اشرف علی صاحب تھانوی لکھتے ہیں :۔" ایک ذاکر صالح کو مکشوف ہوا کہ احقر اشرف علی تھانوی کے گھر حضرت عائشہ آنے والی ہیں۔انہوں نے مجھ سے کہا تو میرا ذہن معا اس طرف نقل ہوا کہ کم من عورت ہاتھ آنے والی ہے۔" (رساله الامداد ماه صفر ۱۳۳۵ھ) یہ قصہ تو ہماری سمجھ میں بھی نہیں آیا۔تعجب ہے! خواب دیکھنا تو بے اختیاری اور بے بسی کی بات ہے لیکن تعبیر کرنا تو انسان کی اپنی عقل اور سمجھ کے دائرہ قدرت میں ہوتا ہے۔پس مصنف رسالہ کے پیر طریقت کی یہ تعبیر ہماری عقل اور ہماری سمجھ سے بالا ہے لیکن یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کی سمجھ اور عقل کے عین مطابق ہوگی۔اور آخر میں مصنف رسالہ سے یہ درخواست ہے کہ اگر انہیں دسترس ہو تو سلسلہ قادریہ مجددیہ کے مشہور بزرگ پیر طریقت ، ہادی شریعت حضرت شاہ محمد آفاق رحمہ اللہ علیہ متوفی مئی ۱۸۳۵ء کے اس کشف کو پڑھ لیں جو انہوں نے اپنے ایک مزید فضل الرحمان گنج مراد آبادی کو بتایا جو کتاب "ارشاد رحمانی و فضل یزدانی" کے صفحہ ۵۸ میں مذکور ہے اور اس کشف کی تعبیر و تشریح بھی پڑھنی نہ بھولیں جو اسی کتاب میں مذکور ہے۔ان چند مثالوں سے ہر قاری پر واضح ہو گیا ہو گا کہ کشوف ہمیشہ تعبیر طلب ہوتے ہیں اور اگر ان کی عقل و سمجھ کے مطابق مناسب تعبیر نہ کی جائے تو نتائج انتہائی بھیانک ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد ہم پھر " قرآن مجید میں رد و بدل" کے مصنف کے اس افتراء کی طرف لوٹتے ہیں جو انہوں نے حضرت مرزا صاحب کے مذکورہ بالا کشف کو اپنے الفاظ میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔جس سے وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کے اس کشف میں جو فقرہ الہام