کتاب محفوظ — Page 36
ایک صالح موجد اہلحدیث میاں کریم بخش صاحب سے اپنے ایک کشف کا ذکر کیا اور اس کی بناء پر فرمایا کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے اور اب قادیان میں عیسی جوان ہو گیا ہے۔وہ جب دعوی کرے گا تو مولوی اس کے مخالف ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ میاں کریم بخش صاحب کے گاؤں جمال پور کے پچاس سے زائد معززین کی گواہیاں شائع شدہ ہیں کہ وہ ایک نہایت را متباز ، پاک طینت اور پکے نمازی تھے۔ان کا بیان پختہ گواہیوں کے ساتھ نیز میاں کریم بخش صاحب کی را متبازی پر مکمل گواہیاں ازالہ اوہام کے صفحہ ۲۸۱ سے ۴۸۷ پر درج ہیں۔اس مجذوب کے کشف میں بیان کیا گیا : عینی اب جوان ہو گیا ہے اور لدھیانہ میں اگر قرآن کی غلطیاں نکالے گا اور قرآن کی رو سے فیصلہ کرے گا اور کہا کہ مولوی اس سے انکار کریں کے۔پھر کہا کہ مولوی انکار کر جائیں گے۔تب میں نے تعجب کی راہ سے پوچھا کہ کیا قرآن میں بھی غلطیاں ہیں، قرآن تو اللہ کا کلام ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ تفسیروں پر تفسیریں ہو گئیں اور شاعری زبان پھیل گئی (یعنی مبالغہ پر مبالغہ کرکے حقیقوں کو چھپایا گیا جیسے شاعر مبالغات پر زور دے کر اصل حقیقت کو چھپا دیتا ہے) پھر کہا کہ جب وہ عیسی آئے گا تو فیصلہ قرآن سے کرے گا۔" ایک پرانے بزرگ کی بات ہے حضرت مرزا صاحب کی طرف منسوب کی جا رہی ہے۔دوسرے یہ کہ کشف ہونے کی وجہ سے ویسے بھی اعتراض کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔البتہ جس طرح اس بزرگ نے تشریح کی ہے اسے پڑھ کر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول یاد آ جاتا ہے کہ :۔ياتي على الناس زمان لا يبقى من الاسلام الا اسمه ولا من القرن الا رسمس " (مشکوة - كتاب العلم) کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب اسلام کا فقط نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کریم کے صرف الفاظ رہ جائیں گے۔