کتاب محفوظ — Page 35
کتاب میں موجود نہیں۔جہاں تک قرآن کریم میں اختلاف ضمائر کی امثلہ کا تعلق ہے چند آیات بطور نمونہ قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔ا۔سورہ فاتحہ میں ہی غائب کے صیغہ سے بات شروع کر کے ایاک نعبد کہہ دیا اور صیغہ حاضر استعمال کیا۔اس سے غلط مفہوم نکالنا کسی کا حق نہیں۔٢- والذي نزل من السماء ماء بقدر فانشرنا به بلدة ميتا ( زخرف: ١٢ ) ٣- وهو الذي انزل من السماء ماه نا خرجنا به نبات کل شئی (انعام : (۱۰۰) الله الذي ارسل الرياح لتثير و سحابا فستناه إلى بلد ميت (فاطر: ۱۰) ترجمہ : آیت نمبر ۲ اور اس نے بادل سے ایک اندازہ کے مطابق پانی اتارا ہے پھر اس کے ذریعہ ہم نے ایک مردہ زمین کو زندہ کر دیا ہے۔آیت نمبر ۳۔اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا ہے پھر اس کے ذریعہ ہم نے ہر ایک چیز کی روئیدگی پیدا کی۔آیت نمبر ۴۔اور اللہ وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے جو بادل کو اٹھاتی ہیں۔پھر ہم اس کو ایک مردہ ملک کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں۔- نمبر ہ قرآن اٹھا لیا گیا۔۔۔۔قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن حکیم ۱۸۵۷ء میں اٹھا لیا گیا تھا۔" یہ ایسا ظالمانہ اعتراض ہے کہ جس کا نہ سر ہے نہ پیر۔حضرت مرزا صاحب کی ساری کتابیں دیکھ لیں کہیں بھی آپ کو ایسا عقیدہ نہیں ملے گا۔اس ظالمانہ جھوٹ بولنے والے مولوی نے معلوم ہوتا ہے لوگوں کی پھنکار سے بچنے کے لئے نام نہیں لکھا لیکن خدا کی پھٹکار تو جہاں بھی ظالم ہو اس کو پہنچ جاتی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ۱۸۵۷ء کا ذکر اس مولوی نے ایک مجذوب کے کشف سے لیا ہے جس کو حضرت مرزا صاحب نے اپنی کتاب ازالہ اوہام (روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۸۱۴۴۸۰) میں تحریر فرمایا ہے کہ ضلع لودھیانہ میں ایک نہایت متقی ، پارسا اور ولی اللہ مشہور تھے حضرت گلاب شاہ مجذوب قریباً ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنے