کتاب محفوظ

by Other Authors

Page 31 of 46

کتاب محفوظ — Page 31

قرآن شریف معارف و حقائق کا ایک دریا ہے۔اور پیشگوئیوں کا ایک سمندر ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی انسان بجز ذریعہ قرآن شریف کے پورے طور پر خدا تعالٰی پر یقین لا سکے کیونکہ یہ خاصیت خاص طور پر قرآن شریف میں ہی ہے کہ اس کی کامل پیروی سے وہ پردے جو خدا میں اور انسان میں حائل ہیں سب دور ہو جاتے ہیں۔ہر ایک مذہب والا محض قصہ کے طور پر خدا کا نام لیتا ہے مگر قرآن شریف اس محبوب ا حقیقی کا چہرہ دکھلا دیتا ہے اور یقین کا نور انسان کے دل میں داخل کر دیتا ہے۔اور وہ خدا جو تمام دنیا پر پوشیدہ ہے وہ محض قرآن شریف کے ذریعہ سے دکھائی دیتا ہے۔" ) چشمه معرفت - روحانی خزائن جلد ۱۲۳ ص ۲۷۱ 0 0 0 نمبر ۲: صرفی نحوی غلطیاں ---- " قرآن میں صرفی و نحوی غلطیاں ہیں۔"۔(حقیقة الوحی ص ۳۰۴) جو شخص حضرت مرزا صاحب کی تحریروں کا معمولی سا بھی مطالعہ کرے وہ ایسی بات آپ کی طرف منسوب کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔معزز قارئین! مولوی صاحب نے اس مذکورہ بالا عبارت کا حوالہ کتاب حقیقتہ الوحی کے صفحہ ۳۰۴ سے دیا ہے۔جیسا کہ ہمیں پہلے امید تھی وہاں کوئی عبارت ایسی موجود نہیں لیکن اس خیال ہے کہ شاید ایسی عبارت کہیں مل جائے جس کو حسب عادت توڑ مروڑ کر مولوی صاحب نے غلط عبارت بنا لی ہو، ہم نے ساری کتاب کا از سر نو مطالعہ کیا تو صفحہ ۳۱۷ پر ایک عبارت تھی۔اب بجائے اس کے کہ مولوی صاحب کے فرضی اعتراض کا جواب دیا جائے اس عبارت کو شائع کرنا کافی ہے جو خود بول رہی ہے کہ یہ ایک عاشق قرآن کی تحریر ہے نہ کہ نعوذ باللہ کسی شاتم قرآن کی فرمایا بعض جگہ خدا تعالی انسانی محاورات کا پابند نہیں ہوتا یا کسی اور زمانہ کے متروکہ محاورہ کو اختیار کرتا ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ بعض جگہ انسانی گریمر یعنی صرف و نحو کے ماتحت نہیں چلتا۔اس کی نظیریں