خطبات وقف جدید — Page 83
83 حضرت مصلح موعود اٹھائیس افراد نے بیعت کی ہے۔پس میں احباب جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی طرف پوری توجہ کریں اور اس کو کامیاب بنانے میں پورا زور لگائیں اور کوشش کریں کہ کوئی فرد جماعت ایسا نہ رہے جو صاحب استطاعت ہوتے ہوئے اس چندہ میں حصہ نہ لے۔یہ امر یا درکھو کہ قوم کی عمر انسان کی عمر سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔پس آپ لوگ ایسی کوشش کریں کہ آپ کے زمانہ میں تمام دنیا میں احمدیت پھیل جائے۔ابھی تو ایک نسل بھی نہیں گزری کہ ہندوستان میں ہمارے سلسلہ کے شدید ترین مخالف بھی احمدیت کی خوبیوں کے قائل ہوتے جارہے ہیں اور میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ادنیٰ خادم ہوں میری تفسیر کی وہ بہت تعریف کرتے ہیں۔یہ انقلاب جو پیدا ہو رہا ہے محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کی وجہ سے ہوا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کی پھیر دے میری طرف اے ساریاں جنگ کی مہار اور اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی طرف لوگوں کی توجہ پھیر نی شروع کر دی۔اور ہمیں یقین ہے کہ اس دعا کے مطابق ایک دن ساری دنیا احمدیت میں داخل ہو جائے گی۔دنیا کی آبادی اس وقت دو ارب سے زیادہ ہے اور اگلے بیس پچیس سال میں وہ تین ارب ہو جائے گی اور پھر تعجب نہیں کہ کئی سال میں وہ اس سے بھی زیادہ ہو جائے مگر دنیا کی آبادی خواہ کتنی بڑھ جائے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے کہ وہ احمدیت کو ترقی دے گا اور اسے بڑھائے گا یہاں تک کہ ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے گی۔بشرطیکہ جماعت اپنی تبلیغی سرگرمیاں ہندوستان میں بھی اور یورپ میں بھی جاری رکھے اور وکالت تبشیر اور اصلاح وارشاد کے محکموں کے ساتھ پورا تعاون کرے۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت لاکھوں کی ہے اور لاکھوں کی جماعت میں سے بیس پچیس ہزار مبلغ یورپ کے لیے اور پچاس ساٹھ ہزار مبلغ ہندوستان اور پاکستان کیلئے آسانی کے ساتھ مل سکتا ہے۔پس چاہئے کہ اپنی نسل میں احمدیت کی تبلیغ کا جوش پیدا کرتے چلے جائیں۔عیسائیت کو دیکھ لو حضرت مسیح کے واقعہ صلیب پر 1959 ء سال گذر چکے ہیں مگر عیسائی اب تک اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے چلے جاتے ہیں۔اگر مسلمان بھی تلوار کے جہاد پر زور دینے کی بجائے تبلیغ پر زور دیتے تو وہ عیسائیوں سے بہت زیادہ پھیل جاتے۔عیسائی اگر ایک ارب تھے تو وہ دس ارب ہوتے مگر وہ چالیس کروڑ صرف اس وجہ سے رہے کہ انہوں نے غلطی سے جہاد صرف تلوار کا جہاد سمجھ لیا اور تبلیغ کے جہاد کو فراموش کر دیا لیکن حضرت مسیح ناصری نے لوگوں سے یہ کہا کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دو اور تمہیں کوئی ایک میل تک بیگار میں لے جانا چاہے تو تم دو میل تک اس کے