خطبات وقف جدید — Page 82
82 حضرت مصلح موعود کے وعدوں سے یا امید ہے کہ ہماری عمروں میں ہی اسلام دنیا کے کناروں تک پھیل جائے گا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا گیا تھا کہ مصلح موعود کے زمانہ میں اسلام بہت ترقی کرے گا مگر اس کے لئے یہ ضروری شرط ہے کہ آپ لوگ اپنے ایمانوں کو مضبوط کرتے جائیں اور اپنی اولادوں کے اندر بھی اس کو راسخ کرتے جائیں تا کہ آپ کی ترقی آپ کی ترقی نہ ہو بلکہ اسلام کی ترقی ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی ترقی ہو۔اسی طرح آپ نے فرمایا: دو دفعہ ہم نے رویا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے آگے سجدہ کرنے کی طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اوتار ہیں اور کرشن ہیں اور ہمارے آگے نذریں دیتے ہیں۔“ صلى الله ( تذکرہ ص343) اس سے پتہ لگتا ہے کہ ہندوؤں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت قائم ہو جائے گی اور سارا ہندوستان آپ کے کرشن ہونے کے لحاظ سے اور ساری دنیا محمد رسول اللہ ﷺ کا بروز ہونے کے لحاظ سے آپکے تابع ہو جائے گی۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک طرف تو یورپ اور امریکہ والوں کو بتائیں کہ اسلام سچا مذہب ہے اور اس کے قبول کرنے میں ہی تمہاری نجات ہے اور دوسری طرف ہندوؤں میں تبلیغ اسلام پر زور دیں اور انہیں اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کریں اور اس وقت تک صبر نہ کریں جب تک ساری دنیا کومحمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں لا کر نہ ڈالدیں۔اسی غرض کے لئے میں نے جماعت میں تحریک جدید کے علاوہ وقف جدید کی تحریک بھی جاری کی ہوئی ہے تا کہ سارے پاکستان میں ایسے معلمین کا جال بچھ جائے جولوگوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کریں اور انہیں اسلام اور احمدیت کی تعلیم سے روشناس کریں مگر یہ کام صحیح طور پر تبھی ہو سکتا ہے جب کم از کم ایک ہزار معلم ہوں اور ان کیلئے اخراجات کا اندازہ بارہ لاکھ روپیہ ہے۔بارہ لاکھ روپیہ کی رقم مہیا کرنا جماعت کیلئے کوئی مشکل امر نہیں کیونکہ اگر دولاکھ افراد جماعت چھ روپے سالانہ فی کس کے لحاظ سے چندہ دیں تو بارہ لاکھ روپیہ بن جاتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ ہماری جماعت تو اس سے کہیں زیادہ ہے۔پچھلے سال جماعت کی طرف سے صرف ستر ہزار روپے کے وعدے ہوئے تھے اور اس سال بھی اتنے ہی وعدے ہوئے جس سے صرف 90 معلمین رکھے جاسکے۔اس سال پچھلے سال سے زیادہ اچھا کام ہوا ہے۔چنانچہ مشرقی پاکستان میں بھی کام شروع ہو گیا ہے۔اور وہاں بھی ایک انسپکٹر اور چار معلم مقرر کئے جاچکے ہیں۔پچھلے سال ان معلمین کی تعلیم و تربیت اور خدمت خلق کا جذبہ دیکھ کر پانچ سو نئے افراد نے بیعت کی تھی۔اس سال چھ سو