خطبات وقف جدید — Page 1
1 حضرت مصلح موعود خطبہ عیدالاضحیہ فرمودہ 9 / جولائی 1957 ء بمقام ربوہ سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: یہ عید قربانیوں کی عید ہے اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی یاد میں ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی یہ نہیں تھی جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ انھیں ذبح کرنے کے لئے حضرت ابراہیم نے زمین پر لٹا دیا تھا لیکن بعد میں خدا تعالیٰ سے الہام پا کر آپ نے ذبح کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور الہی اشارہ کی بنا پر ان کی جگہ ایک بکرا ذبح کر دیا۔میں بارہا بتا چکا ہوں کہ در حقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسمعیل علیہ السلام کے وادی مکہ میں چھوڑ آنے کے متعلق یہ رویا دکھائی گئی تھی کیونکہ ایک بے آب و گیاہ وادی میں بیٹھ جانا بھی بہت بڑی قربانی ہے جیسے شروع شروع میں ربوہ میں چند آدمی خیمے لگا کر بیٹھ گئے تھے تا کہ اسے آباد کیا جائے۔وہ آدمی در حقیقت اس وقت اس اسمعیلی سنت کو پورا کر رہے تھے، وہ صرف اس لئے یہاں بیٹھ گئے تھے کہ آئندہ یہاں ربوہ آباد کیا جائے۔اگر وہ قربانی نہ کرتے اور ربوہ میں آکر خیمے لگا کر نہ بیٹھ جاتے تو نہ یہ شہر بنتا اور نہ سڑکیں بنتیں ، نہ بازار بنتے ، نہ مکانات بنتے اور یہ جگہ پہلے کی طرح چٹیل میدان ہی رہتی۔امریکہ میں جو فری تھنگنگ ( Free Thinking ) کی تحریک پیدا ہوئی ہے اس کا بانی ایک فرانسیسی شخص ہے اس نے اپنا قصہ یہی لکھا ہے کہ میں ایک دن اپنے باپ کے ساتھ ایک پادری کا وعظ سننے گیا تو وہاں اس نے یہ کہا کہ ابراہیم علیہ السلام بڑا نیک انسان تھا اس نے خدا کی خاطر اپنے اکلوتے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر دی۔وہ لکھتا ہے کہ اتفاق کی بات ہے میں بھی اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا ہی تھا۔میں وہاں سے نکل کر بھاگا۔میرے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ اگر میرے باپ کو یہ خطبہ پسند آ گیا تو وہ کہیں میری گردن پر بھی چھری نہ پھیر دے۔میں سمندر پر گیا وہاں ایک امریکہ جانے والا جہاز کھڑا تھا۔میں اس میں نفس گیا اور کسی کو نہ میں چھپ کر بیٹھ گیا اور اس طرح امریکہ پہنچ گیا۔یہاں آکر میں نے یہ دہریوں والی تحریک جاری کی۔غرضیکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کو غلط شکل میں پیش کیا جاتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رؤیا کا یہ مطلب تھا کہ آپ اپنی مرضی سے اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے