خطبات وقف جدید — Page 62
62 حضرت مصلح موعود بات کی قطعا پر واہ نہ کرتا کہ تو میرا بیٹا ہے۔اب آپ لوگ دیکھ لیں کہ ایسے غیرت مند لوگوں کے لئے اہلِ مکہ کو معاف کرنا کس قدر مشکل تھا لیکن انھوں نے معاف کیا بلکہ ان لوگوں کو بھی جنھیں معاف کیا گیا تھا یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوئی اور وہ حیران ہوئے کہ انھیں کیسے معاف کیا گیا ہے۔ابوجہل کا بیٹا عکرمہ ان لوگوں میں شامل تھا جن کے متعلق رسول کریم اللہ نے فیصلہ فرمایا تھا کہ ان کے بعض ظالمانہ قتلوں اور ظلموں کی وجہ سے انھیں قتل کر دیا جائے چنانچہ وہ ڈر کے مارے حبشہ کی طرف بھاگ گیا۔اس کی بیوی رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا یا رسول اللہ کیا آپ کو یہ اچھا لگتا ہے کہ آپ کے بھائی کا بیٹا عکرمہ آپ کے ماتحت رہے یا یہ اچھا لگتا ہے کہ وہ حبشہ جا کر عیسائیوں کے ماتحت رہے۔آپ نے فرمایا وہ بیشک یہاں رہے ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے۔ہم اسے معاف کرتے ہیں۔اس نے کہا وہ ساحلِ سمندر کی طرف بھاگ کر چلا گیا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ اسے کوئی کشتی مل جائے تو وہ اس میں سوار ہو کر حبشہ چلا جائے۔کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں وہاں جا کر اسے واپس مکہ لے آؤں؟ آپ نے فرمایا ہاں میں اجازت دیتا ہوں تم بڑی خوشی سے اسے واپس لے آؤ۔عکرمہ کی بیوی نے پھر کہا یا رسول اللہ وہ بڑا غیرت مند ہے ، شاید آپ کے دل میں یہ خیال ہو کہ وہ یہاں آکر مسلمان ہو جائے گا۔وہ مسلمان نہیں ہوگا۔کیا آپ اس امر کی بھی اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنے آباء واجداد کے مذہب پر قائم رہ کر یہاں رہے؟ آپ نے فرمایا وہ بیشک اپنے مذہب پر قائم رہے ہم اسے مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کریں گے چنانچہ وہ عکرمہ کے پیچھے ساحل سمندر پر پہنچی عکرمہ ابھی کسی کشتی پر سوار نہیں ہوئے تھے اس نے کہا، اے میرے چا کے بیٹے عرب عورتیں اپنے خاوندوں کو چا کا بیٹا کہا کرتیں تھیں) کیا تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تو اپنے بھائی کے ماتحت رہے یا یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تو کسی غیر ملک میں جا کر کسی غیر بادشاہ کے ماتحت رہے۔عکرمہ نے کہا کہ کیا تجھے پتہ نہیں کہ اگر میں مکہ میں رہا تو میں مارا جاؤں گا۔بیوی نے کہا نہیں میں نے رسول کریم ہے سے بات کر لی ہے، اگر تو مکہ میں واپس چلا جائے گا تو تجھے مارا نہیں جائے گا۔تجھے پناہ دی جائے گی۔عکرمہ کہنے لگے تو مجھ سے دعا تو نہیں کر رہی ؟ وہ کہنے لگی کیا میں اپنے خاوند سے دغا کروں گی ؟ میں رسول اللہ ﷺ سے اس بارہ میں اجازت حاصل کر کے آئی ہوں چنانچہ مکرمہ مان گئے اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ مکہ واپس آگئے مکہ آکر انھوں نے اپنی بیوی سے کہا مجھے تیری باتوں پر تب یقین آئے گا جب وہ باتیں جو تو نے کہیں ہیں محمد ﷺ کے منہ سے بھی کہلوا دے۔مجھے یقین ہے کہ وہ راست باز انسان ہیں جھوٹ نہیں صلى الله بولتے۔چنانچہ ان کی بیوی انھیں رسول کریم ہے کے پاس لے کر گئی۔عکرمہ نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ میری بیوی کہتی ہے کہ آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے اب آپ مجھے کچھ نہیں کہیں گے۔رسول کریم صلى الله صلى الله