خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 57 of 682

خطبات وقف جدید — Page 57

57 حضرت مصلح موعود صلى الله ہ دس ہزار صحابہ کے ساتھ مکہ میں داخل ہو گئے اس وقت مکہ والے ایسے گھبرائے ہوئے تھے کہ انھوں نے فتح مکہ سے چند دن پہلے ابوسفیان کو مدینہ بھیجا تا کہ صلح حدیبیہ والے معاہدہ کی ابتداء اس دن سے شمار کی جائے جب ابوسفیان اس کی توثیق کر دے اور وہ مسلمانوں کو مکہ پر حملہ کرنے سے باز رکھے۔ان لوگوں کو یہ تشویش اس لئے پیدا ہوئی کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ عرب قبائل میں سے جو چاہیں مکہ والوں سے مل جائیں اور جو چاہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل جائیں اور یہ کہ دس سال تک دونوں فریق کو ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کی اجازت نہیں ہو گی سوائے اس کے کہ ایک فریق دوسرے فریق پر حملہ کر کے معاہدہ کو تو ڑ دے۔اس معاہدہ کے ماتحت عرب کا قبیلہ بنوبکر مکہ والوں کے ساتھ مل گیا تھا اور خزاعہ قبیلہ محمد رسول اللہ اللہ کے ساتھ مل گیا تھا۔صلح حدیبیہ پر کچھ عرصہ گذرنے کے بعد بنو بکر نے قریش مکہ کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے معاہد قبیلہ خزاعہ پر حملہ کر دیا اور ان کے کئی آدمی مار ڈالے۔وہ جانتے تھے کہ اگر رسول کریم ﷺ کو اس واقعہ کا علم ہوا اور آپ کو اس کا یقینا علم ہوگا تو آپ معاہدہ کی حرمت کو قائم رکھنے کی خاطر مکہ والوں پر حملہ کر دیں گے۔چنانچہ انھوں نے چاہا کہ پیشتر اس کے کہ مدینہ میں اس معاہدہ شکنی کی خبر پہنچے ابوسفیان وہاں جائے اور اس بارے میں کوشش کرے مگر پیشتر اس کے کہ قریش مکہ کی اس عہد شکنی کی مدینہ میں اطلاع پہنچتی حضرت میمونہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ ایک رات تہجد کے وقت جب وضو کرنے کے لئے اٹھے تو میں نے سنا کہ آپ بلند آواز سے فرما رہے ہیں لبیک لبیک لبیک اور پھر آپ نے تین دفعہ فرمایا نُصِرْتَ نُصِرْتَ نُصِرُتَ ہیں نے کہا یا رسول اللہ آپ نے یہ کیا فقرات فرمائے ہیں یہ تو ایسے الفاظ ہیں جیسے آپ کسی شخص سے گفتگو فرما رہے تھے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں نے ابھی دیکھا ہے کہ خزاعہ کا ایک وفد میرے پاس آیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ قریش نے بنو بکر کے ساتھ مل کر ان پر حملہ کر دیا ہے آپ معاہدہ کے مطابق ہماری مدد کریں اور میں نے کہا کہ میں تمہاری مدد کے لئے تیار ہوں چنانچہ تیسرے دن اس قبیلہ کے نمائندے مدینہ پہنچ گئے اور انھوں نے سارا واقعہ کہ سنایا بعد میں ابوسفیان آیا اور اس نے کہنا شروع کر دیا کہ چونکہ صلح حدیبیہ کے وقت میں موجود نہیں تھا۔اس لئے وہ کوئی معاہدہ نہیں تھا اب میں نئے سرے سے معاہدہ کرنا چاہتا ہوں مگر رسول کریم ﷺ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا آخر اس نے بے وقوفی سے خود ہی مسجد میں جا کر یہ اعلان کر دیا کہ چونکہ میں اس معاہدہ میں شامل نہیں تھا اور میں مکہ کارئیس ہوں اس لئے وہ معاہدہ درست نہیں ہو سکتا۔اب میں نئے سرے سے معاہدہ کرتا ہوں۔یہ بات سن کر مسلمان اس کی بیوقوفی پر ہنس پڑے اور وہ سخت شرمندہ ہوا۔بعد میں ابوسفیان نے کہا کہ مجھ سے حضرت علی نے کہا تھا کہ تم مسجد میں جا کر اس قسم کا اعلان کر دو۔خدا تعالیٰ بنو ہاشم کا بُرا کرے انھوں نے علوس الله