خطبات وقف جدید — Page 616
616 حضرت خلیة المسح الامس ایه الله: س ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز میں بھی لندن مسجد کا جو علاقہ ہے وہ فی کس ادائیگی کے لحاظ سے نمبر ایک پر ہی ہے۔62 پاؤنڈز سے اوپر تقریباً 63 پاؤنڈز فی کس ہے۔اور بریڈ فورڈ جنہوں نے بہت دعوے کئے تھے وہ 38 پاؤنڈز پر ہیں۔اسی طرح برمنگھم بہت ہی نیچے ہے وہاں اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ ہیں، بہت بڑھ سکتے ہیں، مانچسٹر میں بڑھ سکتے ہیں۔دوسری جماعت جو اپنے لحاظ سے اچھی قربانی کرنے والی ہے وہ ووسٹر پارک ہے۔تو یہ اور ہندوستان کے کوائف میں نے اس لئے بتائے ہیں کہ آپ لوگوں کو ضرورت کا بھی اندازہ ہو جائے اور اپنی قربانی کا بھی۔ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اتنا بوجھ نہ ڈالو جو برداشت نہ ہو سکے اور عفو پر عمل کرو یعنی اپنے بیوی بچوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھو۔ان کو پورا کرو۔لیکن ضروریات کی بھی کوئی حد مقرر ہونی چاہئے اس کے بھی معیار ہونے چاہئیں۔ورنہ اس زمانے میں جتنا دنیاوی چیزوں کی خواہش کرتے جائیں گے، خواہشیں بڑھتی جائیں گی اور قسم قسم کی جو چیزیں بازار میں دیکھتے ہیں وہ آپ کی خواہشات کو مزید بھڑکاتی ہیں تو اس لحاظ سے بھی دیکھنا چاہئے کہ عضو کی تعریف کیا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایمانی حالت کی بہتری کے لئے بھی قربانی کی ضرورت ہے۔تو اپنے بچوں میں بھی اس قربانی کی عادت ڈالیں تا کہ جب وہ بڑے ہوں تو ان کی خواہشات کی جو ترجیحات ہیں ان میں اللہ کی خاطر مالی قربانی سب سے اول نمبر پر ہو۔اس سے ایک تو شاملین کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا اور جو عفو کے معیار ہیں وہ ترجیحات بدل جانے سے بدل جائیں گے۔جو لوگ بچوں کو بھی جب جیب خرچ دیتے ہیں تو ان کو اس میں سے چندہ دینے کی عادت ڈالیں۔عیدی وغیرہ میں سے چندہ دینے کی عادت ڈالیں ، ان مغربی ممالک میں میں نے اندازہ لگایا ہے جیسا کہ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں کہ بازار سے کھانا برگر وغیرہ جو ہیں اور بڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں اور جو مزے کے لئے کھائے جاتے ہیں ، ضرورت نہیں ہے۔اگر مہینے میں صرف دو دفعہ یہ بچا کر وقف جدید کے بچوں کے چندے میں دیں تو اسی سے وصولی میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔تو وقف جدید کو جس طرح حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے پاکستان میں بچوں کے سپرد کیا تھا۔میں بھی شاید پہلے کہہ چکا ہوں نہیں تو اب یہ اعلان کرتا ہوں کہ باہر کی دنیا بھی اپنے بچوں کے سپر دوقف جدید کی تحریک کرے اور اس کی ان کو عادت ڈالے تو بچوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ بہت بڑے خرچ پورے کر لے گی اور یہ کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔جب آپ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں سے بچت کرنے کی ان کو عادت ڈالیں گے اسی طرح بڑے بھی کریں اور اگر یہ ہو جائے تو ہندوستان کے اخراجات اور کچھ حد تک افریقہ کے اخراجات بھی پورے کئے جاسکتے ہیں۔