خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 567 of 682

خطبات وقف جدید — Page 567

567 س ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت الیه است حال اس د الله: احساس حاصل کئے اور حضرت صاحب کی خدمت میں لا کر پیش کر دیئے حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور جماعت کپورتھلہ کو ( کیونکہ حضرت صاحب یہی سمجھتے تھے کہ اس رقم کا جماعت نے انتظام کیا ہے ) دعا دی۔چند دن کے بعد منشی اروڑ ا صاحب بھی لدھیانہ گئے تو حضرت صاحب نے ان سے خوشی کے لہجہ میں ذکر فرمایا کہ منشی صاحب اس وقت آپ کی جماعت نے بڑی ضرورت کے وقت امداد کی منشی صاحب نے حیران ہو کر پوچھا ”حضرت کون سی امداد؟ مجھے تو کچھ پتہ نہیں“ حضرت صاحب نے فرمایا۔یہی جو منشی ظفر احمد صاحب جماعت کپورتھلہ کی طرف سے ساٹھ روپے لائے تھے۔منشی صاحب نے کہا ”حضرت ! منشی ظفر احمد نے مجھ سے تو اس کا کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی جماعت سے ذکر کیا اور میں ان سے پوچھوں گا کہ ہمیں کیوں نہیں بتایا۔اس کے بعد منشی اروڑا صاحب میرے پاس آئے اور سخت ناراضگی میں کہا کہ حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی اور تم نے مجھ سے ذکر نہیں کیا۔میں نے کہا منشی صاحب تھوڑی سی رقم تھی اور میں نے اپنی بیوی کے زیور سے پوری کر دی اس میں آپ کی ناراضگی کی کیا بات ہے۔مگرمنشی صاحب کا غصہ کم نہ ہوا اور وہ برابر یہی کہتے رہے کہ حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی تھی اور تم نے یہ ظلم کیا کہ مجھے نہیں بتایا اور پھر منشی اروڑ ا صاحب چھ ماہ تک مجھ سے ناراض رہے۔اللہ ! اللہ ! یہ وہ فدائی لوگ تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عطا ہوئے۔ذرا غور فرمائیں کہ حضرت صاحب جماعت سے امداد طلب فرماتے ہیں مگر ایک اکیلا شخص اور غریب شخص اٹھتا ہے اور جماعت سے ذکر کرنے کے بغیر اپنی بیوی کا زیور فروخت کر کے اس رقم کو پورا کر دیتا ہے اور پھر حضرت صاحب کے سامنے رقم پیش کرتے ہوئے یہ ذکر تک نہیں کرتا کہ یہ رقم میں دے رہا ہوں یا کہ جماعت۔تا کہ حضرت صاحب کی دعا ساری جماعت کو پہنچے اور اس کے مقابل پر دوسرا فدائی یہ معلوم کر کے کہ حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی اور میں اس خدمت سے محروم رہا ایسا پیچ و تاب کھاتا ہے کہ اپنے دوست سے چھ ماہ تک ناراض رہتا ہے کہ تم نے حضرت صاحب کی اس ضرورت کا مجھ سے ذکر کیوں نہیں کیا۔“ الفضل 4 ستمبر 1941 ء بحوالہ اصحاب احمد جلد 4 جدید ایڈیشن صفحہ 98،97)