خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 558 of 682

خطبات وقف جدید — Page 558

558 حضرت خلیفہ مسیح الرابع پوری شرح کے ساتھ آمدنی کے مطابق ادا ئیگی ضروری ہے ورنہ دھوکہ دے کر کم آمدنی ظاہر کر کے اس پر چندہ ادا کرنے کا کچھ بھی فائدہ نہیں۔اس کا تو سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔صلى الله آنحضور ﷺ فرماتے ہیں: طہارت اور وضو کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ ہی دھو کے والا مال صدقہ میں قبول ہوتا ہے۔(ترمذی ابواب الطهارة باب لاتقبل صلوة بغير طهور) مال کو جمع کر لینا اور خدا کی راہ میں خرچ نہ کرنا اور زکوۃ اور لا زمی چندہ جات سے جان بوجھ کر پہلوتہی اختیار کرنے سے دوسری عبادات بھی کھو کھلی اور سطحی ہو جاتی ہیں چنانچہ آنحضور ﷺ فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس بندہ کی نماز قبول نہیں کرتا جو ز کوۃ ادا نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ ان دونوں حکموں پر عمل کرے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بھی دونوں کو جمع کیا ہے۔پس تم ان کو الگ مت کرو۔(كنز العمال كتاب الزكواة من قسم الاقوال باب الاول في الوجوب والترغيب فيها حديث نمبر 15784 ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔یہ فریضہ تمام قوم میں مشترک ہے اور سب پر لازم ہے کہ اس پر خطر اور پر فتنہ زمانہ میں کہ جو ایمان کے ایک نازک رشتہ کو جو خدا اور اس کے بندے میں ہونا چاہیے بڑے زور وشور کے ساتھ جھٹکے دے کر ہلا رہا ہے۔اپنے اپنے حسن خاتمہ کی فکر کریں اور وہ اعمال صالحہ جن پر نجات کا انحصار ہے اپنے پیارے مالوں کو فدا کر نے اور پیارے وقتوں کو خدمت میں لگانے سے حاصل کریں۔“ فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 37) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں۔اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اسکی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی کیونکہ ال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔پس جو شخص خدا کیلئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا۔لیکن جو شخص مال سے محبت کر کے خدا کی راہ میں وہ خدمت بجا نہیں لاتا جو بجالانی چاہیے تو وہ ضرور اس مال کو کھوئے گا۔یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دیگر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجا لا کر خدا تعالیٰ اور اسکے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو، بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس