خطبات وقف جدید — Page 557
557 حضرت خلیفہ مسیح الرابع لحاظ سے ایک ہفتے کا ایک آنہ ملا کرتا تھا تو مہینے میں چار آنے ملتے تھے تو ہم سے وہ ایک آنہ ایک ہفتے کالے لیا کرتی تھیں کہ یہ فلاں چندہ میں ڈالا جائے گا۔اللہ ان کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔اس وجہ سے مجھے بھی بچپن سے ہی چندہ دینے کی عادت پڑ گئی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے آپ بھی اپنے بچوں کو چندہ دینے کی عادت ڈالیں۔ان کو کچھ دیں اور ان سے پھر واپس لیں اور بتائیں کہ یہ اس مد میں ہم تمہاری طرف سے خرچ کریں گے۔ہجرت کے نتیجے میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے احمدی خاندانوں کے اموال میں بھی بہت برکت رکھی ہے۔پہلے کے حالات اور آج کے حالات میں کوئی نسبت ہی نہیں رہی۔وہ کیا سے کیا بن گئے ہیں۔اللہ کے بیشمار فضل ہوئے ہیں ہر احمدی خاندان پر اب یہ یادرکھنے کی بات ہے اپنا ماضی دیکھیں اور اب دیکھیں کہ کہاں سے کہاں پہنچے ہوئے ہیں ماشاء اللہ۔امریکہ اور جرمنی اور انگلستان۔یہ سب لوگ اپنا ماضی دیکھیں تو اکثر کو غربت کا ماضی نظر آئے گا۔پس ہجرت میں بھی اللہ تعالیٰ نے بہت برکت رکھی ہے اور اس کے نتیجے کو ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے کسی صورت میں بھی غافل نہیں رہنا اس کے نتیجے میں ایمان بھی بڑھے گا اور اموال میں بھی ترقی ہوگی۔اسلئے میں ایسے خاندانوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خود اپنا جائزہ لیں ، اگر کہیں بھی کمی یا کوئی غفلت واقع ہورہی ہے تو وہ خود اس کو دور کرنیکی کوشش کریں۔ایسے لوگوں کے حسب حالات بھی بعض احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات ملتے ہیں۔ان میں سے بعض میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انحضرت ﷺ نے فرمایا ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے : اے اللہ ! خرچ کرنے والے ( سخی ) کو اور دے۔اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ ! روک رکھنے والے کنجوس کا مال و متاع بر باد کردے۔(بخاری کتاب الزكواة باب قول الله فاما من اعطى و اتقى) حضرت مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ فرما رہے تھے: الهكُمُ التَّكَاثُرُ۔ابن آدم کہتا ہے یہ میرا مال ہے، یہ میرا مال ہے۔اے آدم کے بیٹے ! تیرا مال تو صرف وہ ہے جو تو نے راہ مولیٰ میں صدقہ کر دیا، وہ اگلے جہان میں تیرے کام آئے گایا وہ جو تو نے کھایا اور ختم کر دیا اور جو پہن لیا وہ تو اسی دنیا میں ہی ضائع ہو جائے گا۔اس کا اگلے جہان سے کوئی تعلق نہیں اور جو مال آگے بھیجنا چاہتے ہو وہ وہی ہے جو خدا کی راہ میں خرچ کیا جائے۔) جامع ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب ومن سورة الهكم زکوۃ اور چندہ جات کے معاملے میں بجٹ بناتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔