خطبات وقف جدید — Page 458
458 حضرت خلیفہ امسیح الرابع تھے مصیبت سمجھ کر دیتے تھے چٹی سمجھ کے دیتے تھے جو اولا د کو چھٹی سے بچارہے ہیں۔پس فتنوں کا مقابلہ کرنا ہے ہر فتنے کا موقع ایسا ہمارے سامنے آنا چاہیے کہ ہم اس کو شکست دے کر خدا کی رضا کم کرنے کی بجائے اس کو بڑھاتے ہوئے آگے بڑھیں۔فی کس کے لحاظ سے بھی ہم نے موازنہ کیا ہے اور سوئٹزر لینڈ حسب سابق وقف جدید پیکے فی کس چندے میں اب بھی سب سے آگے ہے امریکہ نمبر دو ہے کوریا اور جاپان تیسرے نمبر پر ہیں اور تحکیم اللہ کے فضل کے ساتھ چھوٹی جماعت ہونے کے باوجود بھی چوتھے نمبر پر آ گئی ہے حالانکہ مالی لحاظ سے ایک کمزور جماعت ہے۔یورپ کی جماعتوں میں تحکیم کی جماعت بہت کمزور ہے۔اخلاص میں نہیں مالی لحاظ سے۔لیکن اللہ نے توفیق دی ہے کہ چوتھے نمبر پر آچکے ہیں اور بھی قربانیوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔چندہ بالغان میں جو پاکستان کے اضلاع کا مقابلہ ہوا کرتا ہے ان میں کراچی اول ، ربوہ دوم، لاہور سوم پھر فیصل آباد، سیالکوٹ، اسلام آباد، گوجرانوالہ شیخوپورہ، کوئٹہ اور سرگودہا آتے ہیں۔مجموعی وصولی کے لحاظ سے چندہ اطفال میں کراچی پھر اول لیکن یہاں ربوہ کی بجائے لا ہور دوم اور ربوہ سوم ہے پھر فیصل آباد، راولپنڈی، سیالکوٹ ، شیخوپورہ ، سرگودہا اور کوئٹہ اسی ترتیب سے آتے ہیں۔وقف جدید کی جو تحریک ہے یہ وقف جدید بیرون جب سے شروع ہوئی ہے اگر چہ اس آمد میں سے بہت حد تک انہی علاقوں میں خرچ ہوا ہے جن علاقوں کی خاطر یہ تحریک قائم کی گئی تھی یعنی پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش لیکن حضرت مصلح موعود کی ایک رؤیا نظر سے گزری ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کا منشاء یہ ہے کہ بالآخر اس تحریک کا فیض یعنی جن کاموں پر خرچ کرنا ہے اس اعتبار سے بیرونی دنیا پر بھی پھیلانا ہوگا اور باقی ملکوں میں صرف پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش پر ہی اس کا خرچ نہیں ہوگا بلکہ اور جگہ بھی اسی قسم کا نظام جاری ہو یعنی وقف جدید کے مقاصد کے حصول میں ان کو بھی شامل کرنا پڑے گا صرف چندے کی قربانی میں نہیں۔پس اس لحاظ سے اس سال میں نے مال کو ہدایت کر دی ہے کہ آغا ز ہم افریقہ سے کرتے ہیں افریقہ میں ضرورتیں بڑھ رہی ہیں اور بعض ملکوں میں اقتصادی بدحالی کی وجہ سے چندوں میں کمزوری آرہی ہے تو وقف جدید کا ایک حصہ ہم انشاء اللہ اس سال افریقہ کی طرف منتقل کریں گے اور پھر ایسا وقت آئے گا کہ یورپ میں بھی وقف جدید کے نظام کے تحت ہمیں معلمین مقرر کرنے پڑیں گے اور اس قسم کے کام جاری کرنے ہوں گے جو اسلام کے آخری غلبے کے لئے ضروری ہیں۔ایک آخری بات اس وقت ، وقت چونکہ ختم ہو رہا ہے بلکہ ہو چکا ہے وہ حوالہ تو نہیں پڑھ سکتا مگر اس کا خلاصہ میں نے بیان کر دیا ہے پھر کسی وقت وہ حضرت مصلح موعود کا حوالہ بھی پڑھ کے سنا دوں گا۔