خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 445 of 682

خطبات وقف جدید — Page 445

445 حضرت خلیلة امسیح الرابع تحریک کو جاری کر کے رہوں گا اور یہ بیماری کے ایام کا آپ کا عزم ہے جب کہ بیماری کے ایام میں ارادے کمزور پڑ جایا کرتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وقف جدید کو جو خدا تعالیٰ نے بعد میں برکتیں عطا فرمائیں وہ اس بات کی مظہر ہیں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں یہ تحریک الہی تحریک ہی تھی اور جو ولولہ اللہ نے ڈالا تھا وہ الہی ولولہ ہی تھا جو ساری جماعت کے دلوں میں منتقل ہونا شروع ہوا یہاں تک کہ یہ تحریک اب خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت مستحکم ہو چکی ہے۔قرآن کریم کی جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان کا ترجمہ یہ ہے کہ تمہارے اموال اور اولا دیں محض فتنہ ہی تو ہیں إِنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ یہ ایک محض فتنہ ہی ہیں تمہارے لئے آزمائش کا ایک ذریعہ بنی ہوئی ہیں ورنہ تم اولا دوں کو چھوڑ کر جب واپس چلے جاتے ہو تو کچھ بھی ساتھ نہیں لے کے جاتے۔جب اموال کو چھوڑ کر چلے جاتے ہو تو خالی ہاتھ جاتے ہو۔آزمائش میں جو تم پورا اترتے ہو وہی تمہاری دولت ہے یعنی وہی مال تمہارا ہے جو آزمائش میں پورا اترنے کے نتیجے میں نیک راہوں پر خرچ ہو اور اس کا حساب خدا تعالیٰ کے نزدیک دوسری دنیا میں منتقل ہو جائے۔وہی اولا د تمہاری اولا د ہے جو تمہارے بعد آنے والے کل میں تمہارے لئے سر بلندی کا موجب بنے تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک کا موجب ہو، تمہارے لئے دعاؤں کا موجب بنے تمہارے درجات کی بلندی کا موجب بنے اور یہ چیزیں آزمائش کے بغیر حاصل نہیں ہوتیں۔تو فتنہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ساری اولا دفتنہ ہی ہوتی ہے۔یہ تو بڑا سخت ایک نا پسندیدگی کا کلمہ ہے جو ہمارے ہاں اگر استعمال کیا جائے تو لوگ ناراض ہو جائیں کہ تمہاری اولا د ہے کہ فتنہ ہے۔تو ان معنوں میں مراد نہیں ہے۔مال بھی فتنہ ہے اولاد بھی فتنہ ہے یعنی آزمائش کا ایک ذریعہ ہے اور اس فتنے سے اللہ کے فضل بھی حاصل ہو سکتے ہیں اور فتنے سے اللہ تعالیٰ کی رضا کھوئی بھی جاسکتی ہے تو فتنے میں دونوں پہلو ہوتے ہیں۔فتنے پر پورا اترنے والا بہت زیادہ فضلوں کا وراث بن جاتا ہے۔ہار جانے والا جو ہاتھ میں ہوتا ہے اس کو بھی کھو دیتا ہے۔پھر فرمایا وَ اللَّهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِیم اور اللہ وہ ہے جس کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔یعنی ان دونوں کو اگر خدا کی راہ میں خرچ کرو گے اولا د کو بھی اور اموال کو بھی تو یا درکھو کہ اجر خدا کے ہاتھ میں ہے اور عظ ظیم اجر ہے۔اس کی وسعت اس دنیا پر بھی حاوی ہے اور اُس دنیا پر بھی حاوی ہے عظیم کا ایک تو معنی ہے زیادہ اور ایک عظمت اس چیز کو کہتے ہیں جس کے دائرہ سے کوئی چیز بھی باہر نہ رہے وسیع ہو جائے ہر چیز پر اس کا اثر وسیع ہو جائے تو اس پہلو سے اجر عظیم کا میں یہ ترجمہ کر رہا ہوں کہ بہت بڑا اجر اور ایسا اجر جو دنیا پر بھی اپنی رحمت کا سایہ کئے ہوئے ہے اور آخرت پر بھی اپنی رحمت کا سایہ کئے ہوئے ہے۔