خطبات وقف جدید — Page 444
444 حضرت خلیفہ مسیح الرابع خطبه جمعه فرموده /6 / جنوری 1995 ء بیت الفضل لندن تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ، وَاللَّهُ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُم وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لَّا نُفُسِكُمْ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ إِنْ تُقْرِضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضْعِفُهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ، وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ o (التغابن: 16 تا 18) آج کے خطبہ کا موضوع مالی قربانی ہے جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے جن کی میں نے تلاوت کی ہے مگر ان کیلئے جن کو ترجمہ آتا ہو اسلئے میں ابھی ان آیات کا ترجمہ بھی کروں گا۔مالی قربانی اس تعلق میں ہے کہ وقف جدید کا سینتیسواں سال خدا تعالیٰ کے فضل کیساتھ بہت کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا ہے اور اڑتیسواں سال شروع ہو رہا ہے۔پرانا یہی دستور رہا ہے کہ جس مہینے میں وقف جدید کا آغاز کیا گیا تھا اس مہینے میں یا اس کے بعد دسمبر کے کسی جمعہ میں نئے سال کے افتتاح کا اعلان ہو۔چونکہ وقف جدید کا آغاز سن 57ء میں دسمبر کے مہینے میں ہوا تھا۔اسلئے پہلی دفعہ جو مالی تحریک ہوئی ہے وہ دسمبر کے جلسہ سالانہ پہ ہوئی۔پس اس پہلی دفعہ کی نسبت سے بالعموم یہی دستور رہا ہے کہ جلسہ سالانہ میں جو بھی جمعہ آیا کرتا تھا اس میں اعلان ہوا کرتا تھا کبھی اگر مصروفیت کی وجہ سے وقف جدید کا اعلان نہ ہو سکے تو آئندہ سال جنوری کے پہلے جمعہ میں یہ اعلان ہو جاتا تھا تو امسال بھی چونکہ قادیان کے جلسے کے سلسلے میں بہت سے امور پر گفتگو ہوئی تھی اسلئے یہی فیصلہ ہوا کہ ہم جنوری کے پہلے خطبے میں ہی وقف جدید کا اعلان کریں گے۔وقف جدید حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحریکات میں سے سب سے آخری تحریک ہے لیکن چونکہ الہی منشاء کے مطابق جاری ہوئی تھی اسلئے اس سے متعلق آپ کو بہت ہی مبشر رویا بھی دکھائی گئیں اور جو ولولہ آپ کے دل میں پیدا کیا گیا اس کا یہ حال تھا کہ آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ میرے دل میں اتنا جوش ہے اس تحریک کیلئے اگر جماعت میرا ساتھ نہ دے جو دیسے ناممکن بات تھی۔مگر احتمالاً ایک فرضی ذکر کے طور پر بعض دفعہ انسان یہ دلیل قائم کرتا ہے، تو اپنے قلبی جوش کے اظہار کے لئے آپ نے فرمایا کہ اگر میرا جماعت ساتھ نہ دے تو مجھے اپنے مکان بیچنے پڑیں اپنے کپڑے بیچنے پڑیں تب بھی میں ضرور اس