خطبات وقف جدید — Page 382
382 حضرت خلیفہ امسیح الرابع کلاس ہو تو تین تین۔چھ چھ مہینے کے بعد معلمین کے نئے وفود تیار ہوتے چلے جائیں گے۔نئے گروہ تیار ہوں گے جن کو ہم حسب حالات اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہندوستان کے شمال و جنوب میں پھیلا سکتے ہیں۔وقف جدید کی تحریک کا اس طرز تبلیغ سے گہرا اور اٹوٹ رشتہ ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کے ذہن میں جوطرز تبلیغ تھی یا طر ز تربیت تھی یہ وہی ہے جو میں آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں۔آپ کے پیش نظر کوئی بہت زیادہ رسمی سخت مزاج کی تنظیم نہیں تھی۔ایسی تنظیم تھی جس میں لوچ ہو ، جس میں تقاضوں کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت ہو، اونچ نیچ کیلئے اس میں گنجائش موجود ہو۔پس ہندوستان کی وقف جدید کو بھی اسی نہج پر کام کرنا ہوگا اور اللہ کے فضل سے کسی حد تک یہ کام ہو رہا ہے۔لیکن جہاں تک مقامی ضروریات کا تعلق ہے پانچ لاکھ کی رقم تو کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی۔چنانچہ چند سال پہلے میں نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے پہلی مرتبہ وقف جدید کے چندہ کے نظام کو بین الاقوامی یا کل عالمی بنا دیا۔پہلے وقف جدید کے متعلق یہ خیال تھا کہ برصغیر ہند و پاکستان کی حدود میں محدود ہے اور صرف پاکستان ہی سے چندہ وصول کیا جائے یا صرف ہندوستان ہی سے چندہ وصول کیا جائے۔اور اس میں ایک اضافہ بنگلہ دیش کا بھی کرلیں۔ان دنوں میں وہ چونکہ مشرقی پاکستان تھا اس لئے اس وقت دو ہی ملک پیش نظر تھے مگر بنگلہ دیش بھی اس گروہ میں شامل ہے چند سال پہلے خصوصیت سے ہندوستان کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے وقف جدید کے چندہ کی عالمی تحریک کی اور تمام دنیا کی جماعتوں سے یہ درخواست کی کہ پاکستان اور ہندوستان کی سرزمین وہ ہے جہاں سے کبھی خالصہ آپ تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے وہاں کے باشندگان مسلسل قربانی کیا کرتے تھے اور کبھی کسی ذہن میں یا ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ خیال نہیں گزرا کہ چندہ تو ہم اکٹھا کر رہے ہیں لیکن خرچ دوسرے ملکوں میں ہو رہا ہے۔ہندوستان اور پاکستان کے باشندوں نے ایک لمبے عرصہ تک کلیۃ اللہ کی خاطر اور تمام نفسانی اغراض سے پاک ہو کر تمام دنیا میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے مالی قربانیاں بھی دیں اور جانی قربانیاں بھی دیں۔چنانچہ میں نے باقی ملکوں کو سمجھایا کہ یہ تو ایک ایسا احسان ہے جو آپ عمر بھر اور نسلاً بعد نسل بھی اتارنے کی کوشش کرتے رہیں تو دعا کے سوا اُتر نہیں سکتا۔مگر ظاہری طور پر اگر یہ احسان اُتارنا چاہتے ہیں تو ایک صورت یہ ہے کہ آپ ایک ایسی تحریک میں شامل ہو جائیں جس کا خرچ آپ کے ملک میں نہیں ہوگا بلکہ ہندوستان اور پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہوا کرے گا چنانچہ اس طرح آپ اظہار تشکر بھی کر سکتے ہیں اور آپ کے دل احسان کے بوجھ سے ہلکا محسوس کریں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس تحریک پر بہت ہی شاندار لبیک کہا گیا اور بڑے بڑے ممالک نے جن