خطبات وقف جدید — Page 381
381 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع غیر مذہب والے کو تلوار کے زور سے ڈرا کر مسلمان بننے پر آمادہ کر لیا۔جب وہ آمادہ ہو گیا تو اس نے کہا: خانصاحب ! اب آپ فرمائیے کیسے مسلمان بنوں؟ اسنے کہا: کلمہ پڑھو۔اسنے کہا پھر پڑھائے تو کہا کہ تمہاری قسمت اچھی ہے۔کلمہ مجھے بھی نہیں آتا۔یہ لطیفہ ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ پٹھانوں میں جو دین سے بڑی محبت رکھتے ہیں ایسے لوگ ہوں گے۔مگر پرانے زمانوں میں یہ جاہلانہ رواج تھے کہ قوموں کے اوپر لطیفے بنائے جاتے تھے۔پس کسی نے یہ لطیفہ گھڑا ہوگا۔لیکن یہ فرضی لطیفہ ایسے معلم پر ضرور صادق آئے گا جو مسلمان بنانے کیلئے نکل کھڑا ہو اور اسے صحیح طریق پر کلمہ بھی پڑھنانہ آتا ہو۔نماز بھی پڑھنی نہ آتی ہو، قرآن کریم کی تلاوت نہ جانتا ہواور مسائل کی شدھ بدھ نہ رکھتا ہو۔اس قسم کی تعلیم کیلئے میں سمجھتا ہوں کہ آغاز میں ہم تین مہینے کا تجربہ کر سکتے ہیں۔اس کے بعد اگر اساتذہ مشورہ دیں تو تین مہینے کو چھ مہینے میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔یہ چھ مہینے جو ابتداء میں ہمیں کم از کم ضرورت کے معلم پیدا کرنے کیلئے درکار ہوں گے وہ ضائع نہیں جائیں گے کیونکہ اس عرصہ میں ہمیں بہت سے انتظامی کام بھی کرنے ہیں۔بہت سے جائزے لینے ہیں اور میدان عمل میں دیگر ضرورتوں کی طرف بھی توجہ کرنی ہے۔بعض مقامی قوانین کے تقاضے بھی پورے کرنے ہیں۔مثلاً جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سکم، بھوٹان، نیپال وغیرہ میں خدا کے فضل سے ایک رجحان پایا جاتا ہے لیکن وہاں پر جب تک جماعت رجسٹر نہ ہو اس وقت تک تبلیغ کی کھلے بندوں اجازت نہیں اور معلمین کو کافی وقت پیش آتی ہے۔پس جب تک ہم وہاں با قاعدہ قانون کے تقاضے پورے نہ کر لیں اس وقت تک کھلی آزادی کے ساتھ اور پورے ولولے کیساتھ وہاں کام نہیں ہو سکتا۔تو اگر آج کے بعد ہم ایک مہینہ آپ کی جماعتوں تک اس پیغام کے پہنچنے اور وہاں سے جواب آنے کا رکھ لیں اور ایک دو مہینے ان خواہشمند احباب کی درخواستوں پر غور کرنے کے ،انکے حالات کی چھان بین کرنے کے اور وہاں کی جماعتوں سے رپورٹیں حاصل کرنے کے رکھ لیں تو پہلے تین مہینے تو اسی قسم کی ابتدائی تیاری کے لئے درکار ہوں گے۔ان کے بعد پھر دوسری تیاریاں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کرنی ہوں گی۔جامعہ کی تیاریاں ،اساتذہ کو حاصل کرنا ،اس کے سلیپس تیار کروانا۔نئے طرز پر جامعہ کی تعمیر کیلئے بڑی محنت درکار ہوگی اس کیلئے میں سمجھتا ہوں کہ کم از کم تین مہینے اور چاہیں ہونگے تو جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر چھ مہینے کے لیے بعد میں ، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والے تعلیم شروع کریں تو ایک سال کے بعد پہلا پھل لگے گا۔اگر چہ ہماری خواہش کے مطالبے اور ہیں اور صبر کے تقاضے اور ہیں لیکن لازماً آخر صبر کے تقاضے جیت ہی جاتے ہیں۔ہمیں صبر سے کام لینا ہوگا ایک سال کا انتظار تو ہمارے لئے بہر حال مقدر ہے۔اس لئے پہلے سال کے بعد انشاء اللہ پھر ہر سال یا اگر چھوٹی