خطبات وقف جدید — Page 278
278 حضرت خلیفہ امسیح الرابع اس لئے ابھی آپ کا حق نہیں ہے، آپ پہلے اپنا حق قائم کریں ، ہر احمدی میں تبلیغ کا ایک نیا جذ بہ اور جوش پیدا ہو تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ جہاں سے مرضی روپیہ لانا پڑے ہم آپکی ضرورت پوری کر دیں گے۔حق قائم کرنے کیلئے میں نے انہیں ایک سال کی مہلت دی ہے اس لئے فی الحال سوئٹزر لینڈ میں سوائے پرانے مشن کی توسیع کے اور کوئی پروگرام نہیں ہے۔ہم جب فرانس آئے تو وہاں بھی جماعت میں ایک حیرت انگیز تبدیلی مشاہدہ میں آئی ہے۔ہم تو سمجھا کرتے تھے کہ کہ وہاں دس یا پندرہ افراد پر مشتمل ایک کمزور سی جماعت ہوگی لیکن جب ہم جمعہ کیلئے اکٹھے ہوئے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے صرف مرد ہی پینسٹھ تھے اور عورتیں بھی اس کے علاوہ تھیں۔خدمت کرنے والی خواتین ( جو سب مہمانوں کا خیال رکھتیں اور ان کے لئے کھانا وغیرہ پکاتی تھیں ) میں ایک یوروپین خاتون بھی تھیں جو حیرت انگیز اخلاص سے دن رات وہاں محنت کر رہی تھیں۔پس وہاں تو جماعت کا بالکل ایک نیا نقشہ نظر آیا۔چنانچہ پیرس کے ایک بہت اچھے علاقے میں جو معاشرہ کے لحاظ سے بھی صاف ستھرا اور صحت مند علاقہ ہے وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت اچھا مشن خرید لیا گیا ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو یہ مبارک فرمائے۔اس کی قانونی Transaction بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک یا دو مہینہ کے اندر ہو جائے گی بہر حال سودا پختہ ہو چکا ہے اور رقم کا ایک حصہ ادا کر دیا گیا ہے اور دوسرا موجود ہے اسی طرح وہاں ایک اور جگہ کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کر دی گئی ہے تا کہ فرانس میں ایک نہیں بلکہ دومشن قائم کئے جائیں۔پس جہاں تک بیرونی دنیا کا تعلق ہے اخلاص کا حال دیکھیں یا تبلیغ کا ذوق وشوق ، عبادتوں میں شغف دیکھیں یا نئے نئے مشنز کا قیام، کس لحاظ سے یہ سال بُرا گزرا ہے؟ امر واقع یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اتنے غیر معمولی فضل ہر سمت سے ہوئے ہیں کہ ان کا شکر ادا کرنے کی طاقت ہم نہیں رکھتے ، یہ حق ادا نہیں ہو سکتا اس لئے خدا کی رحمت کے سامنے سر جھکاتے ہوئے پرانے سال کی دہلیز سے گزریں اور نئے سال میں داخل ہوں اور خدا کی رحمت کے حضور یہ بلندسر پھر بھی نہا ھے کیونکہ جولوگ خدا کے حضور شکرانہ کے طور پر اپنے سر جھکاتے ہیں انہی کو ہمیشہ سر بلندیاں عطا ہوتی ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ خدا کے فضلوں میں بھی اسی طرح Acceleration آئے گی جس طرح آپ اپنی کوششوں میں ایکسیلیریشن Acceleration کریں گے۔اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہی تقدیر جاری ہے کہ بندے کی تھوڑی سے محنت کے مقابل پر وہ بہت زیادہ پھل دیتا ہے۔جب ایک غریب آدمی کسی امیر کو کچھ تھوڑا سا پیش کیا کرتا ہے تو وہ اتنا تو نہیں لوٹایا کرتا۔اگر وہ اتناہی لوٹائے تو یہ بہت ہی گھٹیا اور حقیر بات سمجھی جاتی ہے۔