خطبات وقف جدید — Page 237
237 حضرت خلیفہ امسیح الثالث تک صد سالہ جوبلی کے خرچ پر تین کتب شائع ہو چکی ہیں۔ایک تو ESSENCE OF ISLAM" کی سیریز میں پہلی کتاب حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کے اقتباسات ، چار مضامین پر اللہ جل شانہ اور اسلام اور محمد اللہ اور قرآن عظیم۔یہ کوئی تین سو اٹھائیس صفحے کی کتاب بن گئی۔2 ESSENCE OF ISLAM VOL" اس کی دوسری جلد اس وقت پریس میں ہے بی بھی انگریزی ترجمہ ہے۔دنیا میں بڑی کثرت سے انگریزی بولی جاتی ہے اس میں بعض دوسرے مضامین ہیں اور اس کے بعد "VOL: 3: ESSENCE OF ISLAM اور4 VOLUME ( جلد سوم اور چہارم) کا مسودہ تیار ہے انشاء اللہ آگے پیچھے وہ آجائیں گی۔اس کے علاوہ فرانسیسی بولنے والوں کے لئے ہمارے پاس لٹریچر نہیں تھا۔دنیا میں ایک وقت میں تو (چین اور روس کو چھوڑ کے ) سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانیں دو تھیں۔یا انگریز کی زبان انگریزی۔کیونکہ انہوں نے بہت زیادہ COLONISATION ( کالونائزیشن) کی اور یا فرانسیسی جو اس کے بعد نمبر 2 پہ آئی۔پھر سپینش SPANISH اور پور چوگیز PORTUGEES کیونکہ ساؤتھ امریکہ میں آباد ہوئے اور ہالینڈ کی زبان۔اسلئے یہ بھی ایک وقت میں COLONIAL POWER ( کالونیل پاور ) بنے۔اپنی زبان دنیا کے بعض حصوں میں انہوں نے رائج کی۔ہالینڈ کی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ بھی ہے۔بعض دوسری کتب بھی ہیں۔فرانسیسی میں ابھی تک نہ قرآن کریم کا ترجمہ تھانہ کوئی اور لٹریچر تھا۔چھوٹے چھوٹے رسالے بہت سارے شائع ہوتے رہتے ہیں ضرورت کے مطابق لیکن پہلی دفعہ INTRODUCTION TO THE HOLY QURAN دیپا چہ تفسیر القرآن جو حضرت مصلح موعودؓ کا لکھا ہوا ہے ) یہ بذات خود ایک مستقل کتاب کی حیثیت بھی رکھتا ہے کیونکہ اس میں دو مضمون لمبے اور تفصیلی ہیں۔ایک تو نبی کریم ﷺ کی سیرت اور دوسرے اسلام اور عیسائیت کا موازنہ۔اس کے علاوہ اور مضامین بھی ہیں۔یہ بھی کوئی تین سو میں چالیس صفحے کی ہے۔یہ بھی چھپ چکی صد سالہ جوبلی کے انتظام کے ماتحت۔ہمیں اس کی اس لئے خاص طور پر ضرورت پڑی کہ ایک تو ساری دنیا میں اسلامی تعلیم پھیلانے کے لئے فرانسیسی کو بھی بیچ میں لانا ضروری تھا کیونکہ بڑی کثرت سے بولی جانے والی سمجھی جانے والی زبان ہے۔دوسرے اس لئے ضرورت پڑ گئی کہ افریقہ کے بہت سے ممالک کی زبان فرانسیسی ہے جہاں یہ حاکم رہے ہیں۔مثلاً نیگر (NIGER) جس کو یہاں نائیجر کہتے ہیں۔پیرس میں وفد ملنے آیا تھا میں نے کہا میں شاگر د بنتا ہوں تو بتاؤ کہ تمہارے ملک کاPRONUNCIATION کیا ہے۔کیونکہ کوئی اس کو نا بیجر کہتا ہے کوئی نا ئیگر کہتا ہے۔انہوں نے کہا نہ ٹائیگر۔نہ نائیجر۔ہم اپنے ملک میں اپنے ملک کا نام جو بولتے ہیں اس کی