خطبات وقف جدید — Page 202
202 حضرت خلیفه لمسیح الثالث خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کے دروازے آج بھی اس طرح کھلے ہیں جس طرح پہلے کھلے تھے۔مگر اس کے لئے اُن قربانیوں کی ضرورت ہے جو پہلوں نے دیں اور پہلوں نے جو قربانیاں دیں جب ہم سوچتے ہیں تو ایک طرف تو اُن پر رشک پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف دل سے ان کے لئے بے حد دعائیں نکلتی ہیں وہی لوگ تھے جن کے متعلق ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آیت پوری ہو چکی ہے اور اپنے متعلق تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔انسان کو ہمیشہ خائف اور ترساں رہنا چاہیے۔لیکن انہوں نے واقع میں خدا تعالیٰ کی مرضات کے حصول کے لئے خدا کے حضور اپنی جانیں بیچ دی تھیں۔اللہ تعالیٰ سے ایک سودا کیا تھا اپنا سب کچھ اس کے حضور پیش کر دیا تھا اور وہ خدا تعالیٰ کی ساری ہی رحمتوں کے وارث بن گئے تھے جن کا انسان اس دنیا میں وارث بن سکتا ہے۔جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہی ہے اور نئی جماعتیں قائم ہورہی ہیں۔ابھی ہم پرانی جماعتوں کو بھی ان کی تعداد کے لحاظ سے پورے معلم نہیں دے سکے۔اس وقت جتنے معلم ہیں اور ان پر جو خرچ ہو رہا ہے اگر ہمارے معلموں کی تعداد بڑھ جائے اور اسی نسبت سے ان پر خرچ ہو یعنی ضرورت کے مطابق اگر ہم ہر جماعت میں ایک معلم رکھیں تو اس کام پر ہمیں 30،25 لاکھ روپیہ خرچ کرنا پڑے گا۔موجودہ حالات میں وقف جدید اس بار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔اسلئے آج میں وقف جدید کا ایک نیا دفتر ایک نیا باب کھولتا ہوں اور اس کا اعلان کرتا ہوں۔ہر جماعت کا ایک یا ایک سے زائد فرد جو کہ کچھ لکھا پڑھا ہوا اپنے آپ کو پیش کرے اور جو گزارہ ہم معلمین کو دیتے ہیں وہ گزارہ بھی وہ نہ لیں۔میں تنخواہ کہنے لگا تھا۔تنخواہ تو ہم دیتے نہیں جو لوگ وقف جدید کیلئے وقف کرتے ہیں ان کو ہم گذارہ دیتے ہیں۔بہر حال وہ گزارہ بھی نہ لیں بلکہ اپنا کام کریں اور اپنے گاؤں میں رہ کر اپنی جماعت کو علمی معلومات بہم پہنچائیں۔وہ شاید اکٹھا ایک سال مرکز میں رہ کر تعلیم حاصل نہ کر سکیں لیکن وہ ایسے واقفین رضا کار تین مہینے کیلئے یہاں آئیں اور تین مہینے کا ایک کورس کر کے واپس چلے جائیں پھر دوبارہ تین مہینے کیلئے آئیں اور ایک اور کورس کر لیں۔اور اس طرح ہم ان کو کم از کم اس معیار پر لے آئیں جس معیار پر آج وقف جدید کا معلم پہنچا ہوا ہے اور میرے نزد یک وقف جدید کا معلم بھی اس معیار پر نہیں ہے جس معیار پر جماعت احمدیہ کے معلم کو ہونا چاہیے۔بہر حال ہر گاؤں سے اور ہر جماعت سے اس قسم کے آدمی نکلیں اور اگر بعض جماعتیں چھوٹی ہیں تو ان کے گرد جو بڑی جماعتیں ہیں وہ ایک سے زائد آدمی دیں اور اُن کے ذمہ یہ لگایا جائے تم ہفتے میں کم از کم ایک دن ساتھ والی جماعت میں جاؤ وہ کوئی دن مقرر کرلیں بہر حال ساتواں دن وہ ساتھ والی جماعت میں دیں اور اگر ان کو اس قسم کی تربیت ہو تو اپنے گاؤں