خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 201 of 682

خطبات وقف جدید — Page 201

201 حضرت خلیفه لمسیح الثالث 1974ء کے مقابلہ میں 1975ء میں چندر قوم کی زیادتی تو ہے کیونکہ اس سے پہلے سال 23,135 روپے وصولی ہوئی تھی اور 1975ء میں 23,240 روپے وصولی ہوئی ہے جو کہ گذشتہ سال سے زیادہ ہے لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے اطفال ہزاروں کی تعداد میں ہر سال بڑھ جاتے ہیں ان کو اسی نسبت سے اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔وہ کچھ طفلانہ شعور بھی پیدا کر لیتے ہیں اس لئے ان کو توجہ دلا کر تیار کرنا چاہیے کہ وہ اپنے بڑوں سے پیچھے رہنے والے نہ ہوں بلکہ ان سے آگے بڑھنے والے ہوں۔یہ تو چندوں کی شکل ہے اور اللہ تعالیٰ پر جو مجھے تو کل ہے اور اللہ تعالیٰ کا جو مجھ سے سلوک ہے اسے دیکھتے ہوئے مجھے رقم کے متعلق گھبراہٹ نہیں ہوتی لیکن جو ہماری ذمہ داری ہے جب تک ہم اس کو پوری طرح ادا نہ کریں ہم اللہ تعالیٰ کے پورے فضلوں کے وارث نہیں بن سکتے اس کی مجھے بھی اور آپ کو بھی فکر الله ہونی چاہیے۔جیسا کہ آپ نے جلسہ سالانہ کی تقاریر سے اندازہ لگایا ہوگا ہمیں تربیت کی طرف خاص زور دینے کی ضرورت ہے اور مختلف شکلوں میں نبی کریم ﷺ کی فرمودہ تفسیر قرآنی اور وہ تعلیم جو آنحضرت ﷺ نے قرآن کریم کی تفسیر کے رنگ میں بیان فرمائی اور آداب اور اخلاق اور روحانیت کے حصول کی طرف توجہ کرنا۔یہ باتیں اب آپ کے سامنے پہلے کی نسبت زیادہ آئیں گی اور آپ کو اپنے بچوں کے دلوں میں ان باتوں کی اہمیت پیدا کرنی ہوگی اور ان کو آہستہ آہستہ عادت ڈال کر و یا بنانے کی کوشش کرنی ہوگی جیسا کہ نبی کریم ﷺ کی تربیت کے نیچے آکر پہلے زمانہ میں ایک جماعت پیدا ہو چکی ہے۔اس میں شک نہیں کہ نبی صلى الله کریم ﷺ کی تربیت جیسی تربیت آج کوئی نہیں کر سکتا لیکن نبی کریم ﷺے تو روحانی طور پر آج بھی اسی طرح زندہ ہیں جس طرح کہ آج سے چودہ سو سال پہلے زندہ تھے اور آپ کی دعائیں قیامت تک مخلصین امت محمد یہ کیلئے جاری ہیں۔آپ نے ہر زمانہ کے لوگوں کیلئے اور ساری امت کے لئے بڑی کثرت سے دعائیں کی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی بشارتیں دی ہیں۔اور وہ نظام جو آپ کی اتباع کر کے اور آپ کے اسوہ پر چل کر اور قرآنی تعلیم کی اطاعت کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کا نظام ہے جسے ہم آپ کی قوت قدسیہ کہتے ہیں۔وہ نظام تو مردہ نہیں ہوا وہ آج بھی زندہ ہے کیونکہ قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله - ( آل عمران : 32) کی آواز جس طرح اس وقت کے لوگوں نے سنی تھی اور ا سکے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر اور یہ حکم بجالا کر خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کیا تھا۔یہ آیت قرآنی منسوخ تو نہیں ہوگئی بلکہ آج بھی یہ آواز اسی طرح آرہی ہے آج بھی یہ ہمارے لئے ایک عمل کا پیغام دے رہی ہے اور آج بھی ہمارے لئے ایک بشارت دے رہی ہے۔